تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

برطانیہ میں 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج

برطانیہ میں 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج

لندن( مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں پولیس نے 14 سالہ لڑکے کے خلاف دہشت گردی سے متعلق مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ جنوبی لندن کی دو مساجد پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔حکام کے مطابق ملزم کا تعلق مبینہ طور پر انتہا پسند دائیں بازو کے نظریات سے ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق اسے گزشتہ ہفتے ایک گاڑی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں تلاشی کے دوران ایسے دستاویزات اور دیگر مواد برآمد ہوئے جن کی بنیاد پر اس پر دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری سے متعلق دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس کی سربراہ ہیلن فلاناگن نے کہا کہ ایک کم عمر لڑکے کے خلاف اس نوعیت کا مقدمہ انتہائی سنگین معاملہ ہے، جس سے مقامی آبادی اور عوام میں تشویش پیدا ہونا فطری امر ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کر رہا تھا، تاہم فی الحال کسی بڑے یا منظم نیٹ ورک سے اس کے تعلق کے شواہد سامنے نہیں آئے۔حکام نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر متعلقہ مساجد سے رابطہ کر کے انہیں ضروری سکیورٹی تعاون اور معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔