واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کو قید رکھ کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے معاملے پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان الزبتھ سٹکنی نے افغان طالبان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب بھی غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان نام نہاد یرغمال بنانے کی پالیسی کے تحت قید تمام بے گناہ امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات امریکا کے اہم قومی مفادات میں شامل ہیں۔الزبتھ سٹکنی نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت کے دور میں خواتین کے انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی خراب ہے، جبکہ خواتین اور بچیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔دوسری جانب عالمی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے شہریوں کو سیاسی دباؤ کے لیے قید رکھنا عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کے منافی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق، سیکیورٹی اور سیاسی پالیسیوں سے متعلق معاملات کے باعث طالبان حکومت کو عالمی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔