تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا آغاز

دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا آغاز

دوحہ ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے ماہرین مختلف اہم امور پر بات چیت کر رہے ہیں، تاہم اس مرحلے پر اعلیٰ حکام کی براہِ راست ملاقات کا کوئی پروگرام شامل نہیں۔ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو آگے بڑھانا اور تکنیکی سطح پر پیش رفت حاصل کرنا ہے۔اطلاعات کے مطابق دوحہ میں تین الگ الگ ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں۔ پہلا گروپ ایران کے جوہری پروگرام اور اس سے متعلق تکنیکی امور کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ دوسرا گروپ سفارتی رابطوں اور آئندہ مذاکراتی فریم ورک پر غور کر رہا ہے۔تیسرا ورکنگ گروپ ایران کے بیرون ملک منجمد مالی اثاثوں، فنڈز کی واپسی اور مالیاتی انتظامات سے متعلق معاملات پر کام کر رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال دونوں ممالک کی اعلیٰ سیاسی قیادت یا وزرائے خارجہ کے درمیان کسی براہِ راست ملاقات کا شیڈول طے نہیں ہوا۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات اعتماد سازی کے عمل کا حصہ ہیں، اور اگر تکنیکی سطح پر پیش رفت ہوئی تو مستقبل میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بات چیت نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ خطے کی سکیورٹی اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔