تازہ ترین
وزیراعظم کی عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت سمر انٹرن شپ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست بھارتی آپریشن سندور کی ڈاکومینٹری حقائق کے منافی ہے: آئی ایس پی آر بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ میلانیا ٹرمپ کی محدود عوامی سرگرمیاں، نئی بحث چھڑ گئی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور شدید متاثر امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی وی کیلئے 13 ارب روپے کی اضافی گرانٹ منظور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار 602 پوائنٹس پر پہنچ گیا سندھ میں گیس کا اہم ذخیرہ دریافت، نئی ایکسپلوریشن راہ کھل گئی بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے 4 فاسٹ بولرز کھلانے پر غور انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ، بابر اعظم کی شرکت میڈیکل کلیئرنس سے مشروط رونالڈو اور جارجینا کی گھر میں سادہ شادی، بڑی تقریب بعد میں ہوگی
پاکستان خبر

اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ

اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے، امریکا تہران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتا۔مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے بجائے تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جو کسی بھی مفاہمتی کوشش کے برعکس اقدامات ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ایران اب بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس کے جواب میں امریکا اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات میں دلچسپی کے اشارے دے رہا ہے، تاہم ملک کے اندر معاشی بحران کے باعث پالیسی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایران میں ایک گروہ مذاکرات کا حامی ہے جبکہ دوسرا سخت مؤقف برقرار رکھنا چاہتا ہے۔مارکو روبیو نے کہا کہ اگر ایران میں مذاکرات کے حامی عناصر فیصلہ سازی میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، تاہم موجودہ صورتحال میں امریکا اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا، لیکن اس ذمہ داری کا بوجھ صرف امریکا پر نہیں ہونا چاہیے۔امریکی وزیر خارجہ نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے مشترکہ ذمہ داری ادا کریں اور اس مقصد کے لیے بحری وسائل، دفاعی سازوسامان یا مالی معاونت فراہم کریں۔