تازہ ترین
وزیراعظم کی عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت سمر انٹرن شپ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست بھارتی آپریشن سندور کی ڈاکومینٹری حقائق کے منافی ہے: آئی ایس پی آر بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ میلانیا ٹرمپ کی محدود عوامی سرگرمیاں، نئی بحث چھڑ گئی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور شدید متاثر امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی وی کیلئے 13 ارب روپے کی اضافی گرانٹ منظور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار 602 پوائنٹس پر پہنچ گیا سندھ میں گیس کا اہم ذخیرہ دریافت، نئی ایکسپلوریشن راہ کھل گئی بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے 4 فاسٹ بولرز کھلانے پر غور انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ، بابر اعظم کی شرکت میڈیکل کلیئرنس سے مشروط رونالڈو اور جارجینا کی گھر میں سادہ شادی، بڑی تقریب بعد میں ہوگی
پاکستان خبر

امریکا کا ایران میں فوجی اہداف پر بڑا آپریشن، کشیدگی میں اضافہ

امریکا کا ایران میں فوجی اہداف پر بڑا آپریشن، کشیدگی میں اضافہ

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک اور بڑے فوجی آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 14 جولائی کی رات ایران میں متعدد فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کردی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔امریکی فوج کے مطابق آپریشن تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہا، جس میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں سے جدید اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔امریکی بیان کے مطابق حملوں کا ہدف آبنائے ہرمز کے قریب موجود ایرانی فوجی تنصیبات اور ساحلی علاقے تھے، جہاں میزائل اور ڈرون مراکز، بحری صلاحیتوں، ساحلی دفاعی نظام اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور شہری عملے کے لیے خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔امریکا نے اسی روز شام 4 بجے سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف جانے یا وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں پر بحری پابندیاں دوبارہ عائد کردیں، جس سے خطے میں فوجی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔امریکی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی تمام افواج مکمل طور پر تیار اور چوکس ہیں، جبکہ صدر کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ہر وقت آمادہ ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں سے عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور علاقائی امن سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ عالمی برادری نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔