تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

امریکا کا ایران میں فوجی اہداف پر بڑا آپریشن، کشیدگی میں اضافہ

امریکا کا ایران میں فوجی اہداف پر بڑا آپریشن، کشیدگی میں اضافہ

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک اور بڑے فوجی آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 14 جولائی کی رات ایران میں متعدد فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کردی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔امریکی فوج کے مطابق آپریشن تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہا، جس میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں سے جدید اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔امریکی بیان کے مطابق حملوں کا ہدف آبنائے ہرمز کے قریب موجود ایرانی فوجی تنصیبات اور ساحلی علاقے تھے، جہاں میزائل اور ڈرون مراکز، بحری صلاحیتوں، ساحلی دفاعی نظام اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور شہری عملے کے لیے خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔امریکا نے اسی روز شام 4 بجے سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف جانے یا وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں پر بحری پابندیاں دوبارہ عائد کردیں، جس سے خطے میں فوجی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔امریکی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی تمام افواج مکمل طور پر تیار اور چوکس ہیں، جبکہ صدر کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ہر وقت آمادہ ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں سے عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور علاقائی امن سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ عالمی برادری نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔