تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

امریکا کا ایران میں فوجی اہداف پر بڑا آپریشن، کشیدگی میں اضافہ

امریکا کا ایران میں فوجی اہداف پر بڑا آپریشن، کشیدگی میں اضافہ

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک اور بڑے فوجی آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 14 جولائی کی رات ایران میں متعدد فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کردی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔امریکی فوج کے مطابق آپریشن تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہا، جس میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں سے جدید اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔امریکی بیان کے مطابق حملوں کا ہدف آبنائے ہرمز کے قریب موجود ایرانی فوجی تنصیبات اور ساحلی علاقے تھے، جہاں میزائل اور ڈرون مراکز، بحری صلاحیتوں، ساحلی دفاعی نظام اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور شہری عملے کے لیے خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔امریکا نے اسی روز شام 4 بجے سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف جانے یا وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں پر بحری پابندیاں دوبارہ عائد کردیں، جس سے خطے میں فوجی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔امریکی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی تمام افواج مکمل طور پر تیار اور چوکس ہیں، جبکہ صدر کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ہر وقت آمادہ ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں سے عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور علاقائی امن سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ عالمی برادری نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔