وینزویلا ( مانیٹرنگ ڈیسک)وینزویلا کے ساحلی علاقوں میں 24 جون کو آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد تباہی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 1719 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 5 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لاپتا افراد کی تعداد 68 ہزار تک ہو سکتی ہے۔وینزویلا کے حکام کے مطابق قدرتی آفت کے نتیجے میں 15 ہزار 866 افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ 22 ہزار 619 متاثرین مختلف طبی مراکز میں زیر علاج ہیں۔ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ریاست لا گوائیرا، جو زلزلوں کا مرکز تھی، سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کے بعد حکومت نے علاقے کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے فوج کے حوالے کر دیا ہے۔زلزلے کے پانچ روز بعد بھی ملبہ ہٹانے اور متاثرین کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ بھاری مشینری کے ساتھ مختلف ممالک سے آنے والی امدادی ٹیمیں بھی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ملبے تلے زندہ افراد کے ملنے کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔پیر کے روز کاتیا لا مار میں ایل سلواڈور، میکسیکو اور وینزویلا کی مشترکہ ریسکیو ٹیموں نے ایک 21 سالہ نوجوان کو ملبے سے نکالنے کی کوششیں جاری رکھیں، جو زلزلے کے روز سے منہدم عمارت کے نیچے پھنسا ہوا تھا۔حکام کے مطابق دونوں زلزلوں کے مراکز شمالی وینزویلا میں سان فیلیپے اور یومارے کے درمیان واقع تھے۔ پہلا زلزلہ شام 6 بج کر 4 منٹ پر آیا جس کی شدت 7.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ صرف 39 سیکنڈ بعد 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔ مجموعی طور پر زمین تقریباً تین منٹ تک لرزتی رہی۔متاثرہ علاقوں میں آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے اور لا گوائیرا میں حالیہ دنوں 4.6 شدت کا ایک اور زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس مزید بڑھ گیا ہے۔دوسری جانب عالمی برادری بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہو گئی ہے۔ امریکا نے ریسکیو آپریشنز کے لیے طیارے، بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر روانہ کیے ہیں، جبکہ لاطینی امریکا اور کیریبین کے ترقیاتی بینک نے وینزویلا کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے 20 کروڑ ڈالر کے امدادی فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔حکام پر امدادی سرگرمیوں میں سست روی کے الزامات کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کو تیز کر دیا گیا ہے۔ لا گوائیرا میں پولیس اور فوجی اہلکار بے گھر افراد میں خوراک اور ضروری اشیا تقسیم کر رہے ہیں۔قومی اسمبلی کے قائد جارج روڈریگیز کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ریاست لا گوائیرا کے 90 فیصد علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے، جبکہ متاثرین کے لیے 15 عارضی پناہ گاہیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔