ٹیکساس (ویب ڈیسک) امریکا کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے سائنسدانوں نے ایک جدید پہننے کے قابل پیچ تیار کیا ہے، جو بغیر سرجری یا دوا کے افراد کو تیزی سے آر ای ایم نیند میں داخل ہونے اور اس مرحلے میں زیادہ وقت گزارنے میں مدد دے سکتا ہے۔محققین کے مطابق نیوس لیپ نامی اس آلے میں ایسے برقی قطبین نصب ہیں جو حقیقی وقت میں دماغی سرگرمی کی نگرانی کرتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی دماغ کے ان گہرے حصوں کو ہدف بناتی ہے جو آر ای ایم نیند سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ دماغ کے ردعمل پر بھی مسلسل نظر رکھی جاتی ہے۔سائنسدانوں نے 28 افراد پر آلے کے تجربات کیے، جن کے نتائج سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئے۔ تحقیق کے مطابق پیچ استعمال کرنے والے افراد اوسطاً 43 منٹ پہلے آر ای ایم نیند میں داخل ہوئے اور اس مرحلے میں تقریباً 16 منٹ زیادہ گزارے۔ یہ اثر صحت مند افراد کے علاوہ نیند سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے والے شرکاء میں بھی دیکھا گیا۔شرکاء نے پیچ کو آرام دہ قرار دیا، جبکہ تجربات کے دوران اس کے مضر اثرات بھی معمولی نوعیت کے رہے۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ الٹراساؤنڈ کے استعمال کے بعد جسم میں تناؤ کو منظم کرنے سے متعلق بعض تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔ صحت مند افراد میں دل کی دھڑکن کے اتار چڑھاؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جسے جسم کی تناؤ سے نمٹنے اور ردعمل ظاہر کرنے کی صلاحیت سے جوڑا جاتا ہے۔ دماغی تصویربرداری میں جذباتی عمل سے متعلق دماغی حصوں میں بھی تبدیلیاں ریکارڈ کی گئیں۔محققین کے مطابق آر ای ایم نیند میں خرابی کو افسردگی، بے چینی اور صدمے کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ جیسے مسائل سے جوڑا گیا ہے، اس لیے یہ نتائج اہم ہیں۔تاہم سائنسدانوں نے واضح کیا کہ نیوس لیپ کو باقاعدہ طبی علاج کے طور پر استعمال کرنے سے پہلے بڑے پیمانے پر مزید تحقیق ضروری ہے۔