تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

وائی فائی سے بغیر کیمرے لوگوں کی شناخت ممکن، نئی تحقیق میں انکشاف

وائی فائی سے بغیر کیمرے لوگوں کی شناخت ممکن، نئی تحقیق میں انکشاف

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے وائی فائی ٹیکنالوجی کا ایک ایسا حیران کن استعمال دریافت کیا ہے جس کے ذریعے کیمرے یا اضافی سینسرز کے بغیر بھی لوگوں کی شناخت ممکن ہوسکتی ہے۔جرمنی کے انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن سکیورٹی اینڈ ڈیپنڈایبلٹی کی تحقیق میں 197 افراد کو شامل کیا گیا، جس کے دوران ایک کنٹرول ماحول میں وائی فائی سگنلز کی مدد سے افراد کی شناخت تقریباً 100 فیصد درستگی سے کی گئی۔محققین کے مطابق یہ طریقہ ان ریڈیو سگنلز کے تجزیے پر مبنی ہے جو وائرلیس ڈیوائسز سے خارج ہو کر اردگرد کے ماحول سے منعکس ہوتے ہیں۔ ان سگنلز کا تجزیہ کرکے نظام کسی جگہ موجود افراد کی شناخت اور ان کی موجودگی کی تصویر نما معلومات حاصل کرسکتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اس مقصد کے لیے عام وائی فائی آلات ہی کافی ہوسکتے ہیں اور متعلقہ شخص کے پاس اسمارٹ فون یا کوئی وائی فائی ڈیوائس ہونا بھی ضروری نہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روایتی کیمرے کی طرح معلومات حاصل کرسکتی ہے، تاہم اس میں روشنی کی لہروں کے بجائے ریڈیو لہروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا کہ وائرلیس نیٹ ورکس کا اس طرح استعمال رازداری اور پرائیویسی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ مستقبل میں وائی فائی نیٹ ورکس کو لوگوں کی لاعلمی میں وسیع پیمانے پر نگرانی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔