تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر گولن نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی حکومت کے فیصلوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کی پالیسیاں، جن میں انتہائی مذہبی یہودیوں کو فوجی سروس سے استثنیٰ دینا بھی شامل ہے، اسرائیلی فوجیوں پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو، بیزلیل سموٹریچ اور بین گویر کی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں تعینات اسرائیلی فوجیوں کو مناسب تحفظ فراہم نہیں کر رہی۔یائر گولن نے کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت کو آئندہ انتخابات میں تبدیل کرنے کے لیے وہ میدان میں آ رہے ہیں۔انہوں نے ایک اور بیان میں خبردار کیا کہ موجودہ حکومتی پالیسیاں مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہیں، جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
یائر گولن کی نیتن یاہو پر تنقید، فوجیوں کو خطرات کا ذمہ دار قرار دے دیا
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں