کراچی ( شو بز ڈیسک)پاکستانی اداکار ببرک شاہ نے اپنے کم سن بیٹے کی المناک موت اور اس سانحے کے بعد اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے دل گرفتہ انکشافات کیے ہیں۔حال ہی میں ایک نجی فیشن جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں اداکار نے بیٹے کی وفات اور اس کے بعد پیش آنے والی مشکلات پر کھل کر بات کی۔ببرک شاہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی پیدائش اور وفات سے جڑی ایک حیران کن بات یہ ہے کہ جب ان کی اہلیہ چوتھی مرتبہ حاملہ تھیں تو وہ بہت زیادہ پانی پیتی اور برف کھاتی تھیں۔ اتفاق سے ان کا چوتھا بیٹا ڈوبنے کے واقعے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اداکار کے مطابق ان کا بیٹا 21 رمضان کو پیدا ہوا تھا اور جب اس کی وفات ہوئی تو اس وقت بھی رمضان کا مہینہ تھا۔اداکار کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے اس بڑے صدمے پر صبر کرنا سیکھا اور یہ حقیقت تسلیم کی کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہر نعمت اسی کی امانت ہے۔ عام طور پر اولاد اپنے والدین کو سپرد خاک کرتی ہے، لیکن انہیں اپنے بیٹے کو دفنانا پڑا۔ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد ان سے پہلے دنیا سے رخصت نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا بہت ذہین تھا۔ببرک شاہ کے مطابق بیٹے کی وفات کے بعد وہ چھ ماہ تک گھر سے باہر نہیں نکلے۔ یہ ان کی زندگی کا ایک اور بڑا صدمہ تھا، جس سے انہیں خود کو سنبھالنا پڑا۔ اسی تناظر میں انہوں نے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ وہ کندن سونا ہیں اور انہیں بدلنا آسان نہیں۔اپنی شخصیت میں مزاح پیدا ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اداکار نے کہا کہ یہ دراصل اپنی اہلیہ کے غم کو کم کرنے کی کوشش تھی۔ وہ انہیں دکھ سے دور رکھنے کے لیے گھر میں مزاحیہ حرکتیں کرتے اور ہنسی مذاق کا ماحول پیدا کرتے تھے، کیونکہ ان کی اہلیہ رات کے وقت کمرے میں اکیلی بیٹھ کر رویا کرتی تھیں۔ببرک شاہ نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ زندگی میں ہر شخص کو اپنے حصے کے دکھ اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم صبر ہی کامیابی کی کنجی ہے۔واضح رہے کہ دسمبر 2022ء میں ببرک شاہ کو اس وقت شدید صدمہ پہنچا تھا جب لاہور میں ان کی رہائشی سوسائٹی میں پیش آنے والے ایک افسوس ناک واقعے میں ان کے سب سے چھوٹے بیٹے زاویار شاہ کی ڈوبنے سے موت ہوگئی تھی۔