اسلام آباد( پاکستان خبر) سپریم کورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والی زیتون بی بی کو وراثتی جائیداد کے مقدمے میں تقریباً نصف صدی بعد ریلیف فراہم کرتے ہوئے 2022ء کے فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔جسٹس منیب اختر، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس صلاح الدین پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔عدالت نے مخالف فریق کی جانب سے نظرِ ثانی اپیل خارج کیے جانے کے فیصلے کو واپس لینے کی درخواست مسترد کردی اور زیتون بی بی کے حق میں سنائے گئے 2022ء کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔سپریم کورٹ نے 2024ء میں نظرِ ثانی کی درخواست خارج کی تھی، تاہم عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے پر عدالت عظمیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی نظام کا انحصار اعتماد، نظم و ضبط اور عدالتی احکامات کے احترام پر ہے، اس لیے عدالت کے فیصلوں کی پابندی ہر حال میں ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ دی گئی رعایت کو صرف رسمی کارروائی تصور کرنا افسوسناک امر ہے۔سپریم کورٹ کے مطابق نظرِ ثانی کے مقدمے میں 4 مارچ 2024ء کو مشروط التوا دیا گیا تھا، تاہم 12 ستمبر کو دوبارہ التوا کی درخواست پر مقدمہ عدم پیروی کی بنیاد پر خارج ہوگیا۔عدالت نے قرار دیا کہ اب نظرِ ثانی خارج کرنے کا فیصلہ واپس لینا دراصل 4 مارچ 2024ء کے حکم کو واپس لینے کے مترادف ہوگا، جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق زیتون بی بی کے والد 1976ء میں انتقال کرگئے تھے، جس کے بعد سے انہیں اپنی وراثتی جائیداد میں حق سے محروم رکھا گیا تھا۔