تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

زیتون بی بی کو وراثتی جائیداد کیس میں نصف صدی بعد ریلیف مل گیا

زیتون بی بی کو وراثتی جائیداد کیس میں نصف صدی بعد ریلیف مل گیا

اسلام آباد( پاکستان خبر) سپریم کورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والی زیتون بی بی کو وراثتی جائیداد کے مقدمے میں تقریباً نصف صدی بعد ریلیف فراہم کرتے ہوئے 2022ء کے فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔جسٹس منیب اختر، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس صلاح الدین پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔عدالت نے مخالف فریق کی جانب سے نظرِ ثانی اپیل خارج کیے جانے کے فیصلے کو واپس لینے کی درخواست مسترد کردی اور زیتون بی بی کے حق میں سنائے گئے 2022ء کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔سپریم کورٹ نے 2024ء میں نظرِ ثانی کی درخواست خارج کی تھی، تاہم عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے پر عدالت عظمیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی نظام کا انحصار اعتماد، نظم و ضبط اور عدالتی احکامات کے احترام پر ہے، اس لیے عدالت کے فیصلوں کی پابندی ہر حال میں ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ دی گئی رعایت کو صرف رسمی کارروائی تصور کرنا افسوسناک امر ہے۔سپریم کورٹ کے مطابق نظرِ ثانی کے مقدمے میں 4 مارچ 2024ء کو مشروط التوا دیا گیا تھا، تاہم 12 ستمبر کو دوبارہ التوا کی درخواست پر مقدمہ عدم پیروی کی بنیاد پر خارج ہوگیا۔عدالت نے قرار دیا کہ اب نظرِ ثانی خارج کرنے کا فیصلہ واپس لینا دراصل 4 مارچ 2024ء کے حکم کو واپس لینے کے مترادف ہوگا، جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق زیتون بی بی کے والد 1976ء میں انتقال کرگئے تھے، جس کے بعد سے انہیں اپنی وراثتی جائیداد میں حق سے محروم رکھا گیا تھا۔