کوئٹہ ( پاکستان خبر) وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی مفاہمتی کوششیں کامیاب ہوگئیں، بلوچستان حکومت، شہدائے زیارت کے لواحقین اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے بعد اتفاق رائے ہو گیا۔دھرنا کمیٹی کے رکن نصر اللہ زیرے کے مطابق مذاکرات کے مسودے پر تمام فریقین نے اتفاق کیا، جس کے بعد حکومت، لواحقین اور دھرنا کمیٹی نے معاہدے پر دستخط کر دیے۔معاہدے کے تحت زیارت واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق مشترکہ اجلاس بھی منعقد ہوگا، جس میں اپوزیشن اور شہداء کے لواحقین شریک ہوں گے۔معاہدے کے مطابق شہدائے زیارت کو سرکاری پالیسی کے تحت شہید قرار دیا جائے گا، لواحقین کو مالی معاونت، کفالت اور بچوں کی تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ شہداء کے نام پر سرکاری عمارتیں بھی منسوب کی جائیں گی۔عوامی ریونیو سے متعلق تحفظات کے حل کے لیے وزیر ریونیو کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ شہداء کے خاندانوں کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ پاک فوج، ایف سی اور پولیس کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔