تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

اردو غزل کا روشن باب اختتام پذیر، بشیر بدر 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

اردو غزل کا روشن باب اختتام پذیر، بشیر بدر 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

بھوپال( شو بز ڈیسک)اردو ادب کے نامور شاعر بشیر بدر 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال سے اردو شاعری کا ایک درخشاں عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا اور ادبی دنیا ایک معتبر آواز سے محروم ہو گئی۔بشیر بدر جدید اردو غزل کے نمایاں اور مقبول شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے اور گزشتہ کئی برسوں سے صاحبِ فراش زندگی گزار رہے تھے۔ ان کا انتقال بھوپال میں ہوا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ کافی عرصے سے دماغی عارضے میں مبتلا تھے۔ اپنی شاعری میں انہوں نے محبت، جدائی، تنہائی، ہجرت اور انسانی احساسات کو نہایت سادہ مگر دلنشین انداز میں بیان کیا، جس کے باعث انہیں برصغیر سمیت دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔بشیر بدر کی شاعری عام قاری اور ادبی حلقوں دونوں میں یکساں پسند کی جاتی تھی۔ ان کے متعدد اشعار زبان زدِ عام ہوئے اور آج بھی مشاعروں، ادبی نشستوں اور سماجی رابطوں کے مختلف ذرائع پر کثرت سے دہرائے جاتے ہیں۔ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بھارتی حکومت نے انہیں پدم شری سے بھی نوازا تھا۔ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کے ادبی اور شعری حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ مداح اور اہلِ قلم انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔