تازہ ترین
ابراہیمی معاہدے پر کو ئی لچک نہیں،پاکستان فلسطین کے مسئلے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے :اسحاق ڈار عالمی سطح پر پاکستان کا سفارتی کردار مضبوط، بھارت کی تنہائی کی پالیسی ناکام قرار ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 71 لاکھ سے تجاوز کر گئی حج سے واپسی کا مرحلہ شروع، پہلے روز ہزاروں حاجیوں کی وطن واپسی غلافِ کعبہ کی تبدیلی کی تیاریاں، نیا کسوہ یکم محرم کو نصب کیا جائے گا ایران پر پابندیاں مرحلہ وار ختم ہوں گی، امریکی وزیر خزانہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران کا خدشہ، بڑی مالی و تجارتی تنظیموں کا انتباہ اسرائیل کا حماس کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، غزہ میں کشیدگی برقرار آئی ایم ایف کا انکار، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کا امکان پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں میں 5 فیصد کمی کا اعلان پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مجموعی ذخائر 22 ارب 64 کروڑ ڈالر سے زائد ہو گئی عیدالاضحیٰ پر 74 لاکھ سے زائد جانور قربان، کھالوں کی مالیت اربوں روپے تک پہنچ گئی انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان کی شاندار فتح، چین کو 0-3 سے شکست ویمن ٹی ٹوئنٹی ٹرائی سیریز: پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں 25 رنز سے شکست مالدیپ میں چار ملکی فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان ٹیم کا اعلان پاکستان اور آسٹریلیا ایک روزہ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا مقابلہ کل ہو گا
پاکستان خبر

اردو غزل کا روشن باب اختتام پذیر، بشیر بدر 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

اردو غزل کا روشن باب اختتام پذیر، بشیر بدر 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

بھوپال( شو بز ڈیسک)اردو ادب کے نامور شاعر بشیر بدر 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال سے اردو شاعری کا ایک درخشاں عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا اور ادبی دنیا ایک معتبر آواز سے محروم ہو گئی۔بشیر بدر جدید اردو غزل کے نمایاں اور مقبول شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے اور گزشتہ کئی برسوں سے صاحبِ فراش زندگی گزار رہے تھے۔ ان کا انتقال بھوپال میں ہوا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ کافی عرصے سے دماغی عارضے میں مبتلا تھے۔ اپنی شاعری میں انہوں نے محبت، جدائی، تنہائی، ہجرت اور انسانی احساسات کو نہایت سادہ مگر دلنشین انداز میں بیان کیا، جس کے باعث انہیں برصغیر سمیت دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔بشیر بدر کی شاعری عام قاری اور ادبی حلقوں دونوں میں یکساں پسند کی جاتی تھی۔ ان کے متعدد اشعار زبان زدِ عام ہوئے اور آج بھی مشاعروں، ادبی نشستوں اور سماجی رابطوں کے مختلف ذرائع پر کثرت سے دہرائے جاتے ہیں۔ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بھارتی حکومت نے انہیں پدم شری سے بھی نوازا تھا۔ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کے ادبی اور شعری حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ مداح اور اہلِ قلم انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔