تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

افغان عوام طالبان کے فیصلوں کی حمایت نہیں کرتے ، اقوام متحدہ میں افغان مندوب کا بیان

افغان عوام طالبان کے فیصلوں کی حمایت نہیں کرتے ، اقوام متحدہ میں افغان مندوب کا بیان

 کابل( مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں قائم طالبان حکومت کے حالیہ اقدامات کو سرکاری قوانین کا درجہ دینے کے حوالے سے تنازع سامنے آ گیا ہے۔اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مندوب نصیر احمد اندیشہ نے واضح کیا ہے کہ طالبان حکومت کے احکامات کو نہ تو افغانستان کے سرکاری قوانین کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں عوام کی مرضی کی نمائندگی قرار دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان عوام طالبان کے فیصلوں کی حمایت نہیں کرتے اور موجودہ پالیسیاں عوامی خواہشات کی عکاسی نہیں کرتیں۔مندوب کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل اور احتجاج بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت دلوانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہیں، جبکہ ان کے فیصلے زیادہ تر مخصوص نظریاتی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔