تازہ ترین
اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ثاقب چدھڑ اور اہلیہ کی ضمانت میں توسیع سوہائے علی ابڑو نے علیحدگی کی افواہوں کی تردید کر دی کبریٰ خان کی سارہ علی خان اور شرمیلا ٹیگور کے ساتھ ویڈیووائرل شہرت عارضی ہے:ماہرہ خان کا انکشاف بچوں کے تحفظ کے معاملے پر میٹا کی مشکلات بڑھنے کا امکان چین نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر تیار کر لیا مصنوعی ذہانت چند برسوں میں انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے، ایلون مسک
پاکستان خبر

افغان عوام طالبان کے فیصلوں کی حمایت نہیں کرتے ، اقوام متحدہ میں افغان مندوب کا بیان

افغان عوام طالبان کے فیصلوں کی حمایت نہیں کرتے ، اقوام متحدہ میں افغان مندوب کا بیان

 کابل( مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں قائم طالبان حکومت کے حالیہ اقدامات کو سرکاری قوانین کا درجہ دینے کے حوالے سے تنازع سامنے آ گیا ہے۔اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مندوب نصیر احمد اندیشہ نے واضح کیا ہے کہ طالبان حکومت کے احکامات کو نہ تو افغانستان کے سرکاری قوانین کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں عوام کی مرضی کی نمائندگی قرار دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان عوام طالبان کے فیصلوں کی حمایت نہیں کرتے اور موجودہ پالیسیاں عوامی خواہشات کی عکاسی نہیں کرتیں۔مندوب کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل اور احتجاج بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت دلوانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہیں، جبکہ ان کے فیصلے زیادہ تر مخصوص نظریاتی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔