لاہور( سپورٹس ڈیسک)پیرس اولمپکس 2024 میں جیولن تھرو کا گولڈ میڈل جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کے ابتدائی کوچ فیاض احمد بخاری نے اپنے ہونہار شاگرد کی حالیہ کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ جدید تقاضوں کے مطابق تربیت اور محنت سے ارشد ندیم عالمی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔پاکستان واپڈا میں ٹیکنیکل کوچ کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے فیاض بخاری نے 54ویں قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ارشد ندیم کی زندگی سخت محنت اور جدوجہد سے عبارت ہے۔انہوں نے بتایا کہ خانیوال کے علاقے میاں چنوں میں پیدا ہونے والے ارشد ندیم اپنے قد اور جسمانی طاقت کے باعث کھیلوں کے لیے موزوں تھے۔ ابتدا میں وہ کرکٹ، فٹبال اور کبڈی کھیلتے تھے، تاہم ان میں موجود قدرتی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں جیولن تھرو کی جانب راغب کیا گیا۔فیاض بخاری کے مطابق ارشد ندیم نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے بھرپور محنت کی اور کامیابیوں کا سفر شروع کیا۔ 2016 میں گوہاٹی میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں 55.33 میٹر نیزہ پھینک کر کانسی کا تمغہ جیتنے کے بعد ان کے حوصلے بلند ہوئے۔2018 کے ایشین گیمز میں انہوں نے 80.75 میٹر کی تھرو کے ساتھ قومی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ بعد ازاں وہ ٹوکیو اولمپکس 2020 میں کوالیفائی کرنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ بنے اور 84.62 میٹر کی تھرو کے ساتھ پانچویں پوزیشن حاصل کی۔کامن ویلتھ گیمز 2022 میں ارشد ندیم نے 90.18 میٹر نیزہ پھینک کر طلائی تمغہ جیتا، جبکہ پیرس اولمپکس 2024 میں 92.97 میٹر کی تاریخی تھرو کے ساتھ اولمپک ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپکس میں گولڈ میڈل دلایا۔ یہ پاکستان کی جانب سے انفرادی مقابلے میں پہلا اولمپک طلائی تمغہ بھی تھا۔فیاض بخاری کا کہنا تھا کہ پیرس اولمپکس کے بعد ارشد ندیم کو حکومت کی جانب سے اعزازات اور انعامات سے نوازا گیا، تاہم انجریز نے ان کی کارکردگی کے تسلسل کو متاثر کیا ہے۔ان کے مطابق ارشد ندیم کہنی کی تکلیف، گھٹنے اور کندھے کے درد کے باعث اپنی بہترین کارکردگی برقرار نہیں رکھ سکے۔ اگر ان مسائل پر درست توجہ دی جائے اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ دوبارہ بہترین کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔فیاض بخاری نے زور دیا کہ ارشد ندیم کو انجریز سے نجات دلانے اور عالمی سطح پر مزید اعزازات حاصل کرنے کے لیے جدید ترین تربیت اور مناسب حکمت عملی فراہم کرنا ضروری ہے۔