تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

بالی ووڈ کا طبقاتی نظام بے نقاب، بڑے اداکاروں کا رویہ سامنے آ گیا

بالی ووڈ کا طبقاتی نظام بے نقاب، بڑے اداکاروں کا رویہ سامنے آ گیا

ممبئی( شوبز ڈیسک)بھارتی فلموں اور ٹیلی ویژن کے معروف اداکار راجیش کمار نے بالی ووڈ کے طبقاتی نظام پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی کردار ادا کرنے والے فنکار اکثر معاون اداکاروں کے ساتھ ریہرسل کرنا بھی پسند نہیں کرتے، جس کے باعث اداکاری میں ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔بھارتی ریاست بہار کے ضلع گیا سے تعلق رکھنے والے 51 سالہ اداکار نے اپنے کیریئر میں متعدد بڑی فلموں میں معروف شخصیات کے ساتھ بطور معاون اداکار کام کیا اور اپنی اداکاری سے نمایاں پہچان بنائی۔ایک حالیہ یوٹیوب انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ کئی مواقع پر مرکزی اداکار معاون کاسٹ سے بات چیت تک گوارا نہیں کرتے، جو پیشہ ورانہ ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کی کامیاب فلم سائی یارا میں انہوں نے اداکارہ انیت پڈا کے والد کا کردار ادا کیا، تاہم فلم کے سیٹ پر اکثر اہم فیصلے چند مخصوص افراد تک محدود رہتے ہیں، جن میں ہدایتکار، سنیماٹوگرافر، فلم کا مرکزی اداکار اور لکھاری شامل ہوتے ہیں، جبکہ دیگر افراد محض تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں۔راجیش کمار نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بڑے اداکار نے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے براہِ راست بات کرنے کے بجائے اپنے معاون سے سوال کیا کہ وہ مکالمہ اس انداز میں کیوں ادا کیا جا رہا ہے، اور ساتھ ہی ریہرسل سے انکار کرتے ہوئے براہِ راست شوٹ کرنے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ فلمی صنعت میں موجود اس رویے اور طبقاتی تقسیم کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہتر اور معیاری کام سامنے آ سکے۔