تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

بالی ووڈ کا طبقاتی نظام بے نقاب، بڑے اداکاروں کا رویہ سامنے آ گیا

بالی ووڈ کا طبقاتی نظام بے نقاب، بڑے اداکاروں کا رویہ سامنے آ گیا

ممبئی( شوبز ڈیسک)بھارتی فلموں اور ٹیلی ویژن کے معروف اداکار راجیش کمار نے بالی ووڈ کے طبقاتی نظام پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی کردار ادا کرنے والے فنکار اکثر معاون اداکاروں کے ساتھ ریہرسل کرنا بھی پسند نہیں کرتے، جس کے باعث اداکاری میں ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔بھارتی ریاست بہار کے ضلع گیا سے تعلق رکھنے والے 51 سالہ اداکار نے اپنے کیریئر میں متعدد بڑی فلموں میں معروف شخصیات کے ساتھ بطور معاون اداکار کام کیا اور اپنی اداکاری سے نمایاں پہچان بنائی۔ایک حالیہ یوٹیوب انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ کئی مواقع پر مرکزی اداکار معاون کاسٹ سے بات چیت تک گوارا نہیں کرتے، جو پیشہ ورانہ ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کی کامیاب فلم سائی یارا میں انہوں نے اداکارہ انیت پڈا کے والد کا کردار ادا کیا، تاہم فلم کے سیٹ پر اکثر اہم فیصلے چند مخصوص افراد تک محدود رہتے ہیں، جن میں ہدایتکار، سنیماٹوگرافر، فلم کا مرکزی اداکار اور لکھاری شامل ہوتے ہیں، جبکہ دیگر افراد محض تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں۔راجیش کمار نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بڑے اداکار نے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے براہِ راست بات کرنے کے بجائے اپنے معاون سے سوال کیا کہ وہ مکالمہ اس انداز میں کیوں ادا کیا جا رہا ہے، اور ساتھ ہی ریہرسل سے انکار کرتے ہوئے براہِ راست شوٹ کرنے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ فلمی صنعت میں موجود اس رویے اور طبقاتی تقسیم کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہتر اور معیاری کام سامنے آ سکے۔