تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

بچوں کو سوشل میڈیا پر لانا سنگین نفسیاتی خطرہ ،فضا علی تنقید کی زد میں آگئیں

بچوں کو سوشل میڈیا پر لانا سنگین نفسیاتی خطرہ ،فضا علی تنقید کی زد میں آگئیں

 کراچی ( شوبز ڈیسک)پاکستانی کلینیکل ماہرِ نفسیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ماہین انوری نے اداکارہ اور ٹی وی میزبان فضا علی کے پیرنٹنگ انداز پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں بچوں کو آن لائن نمایاں کرنے کے رجحان پر تنقید کی گئی۔ماہین انوری کا کہنا تھا کہ والدین خصوصاً مائیں سوشل میڈیا پر ویوز اور توجہ حاصل کرنے کے لیے کمسن بچوں کو سامنے لا رہی ہیں، جو مستقبل میں ان کی ذہنی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق بچوں کی نجی زندگی کو عوامی مواد بنانا تشویش ناک عمل ہے۔واضح رہے کہ فضا علی انسٹاگرام پر اپنی روزمرہ زندگی کے ساتھ اپنی دس سالہ بیٹی فرال فواد کی تصاویر اور ویڈیوز بھی باقاعدگی سے شیئر کرتی رہتی ہیں۔ اسی تناظر میں ماہین انوری نے فضا علی اور ان کی بیٹی کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اس رجحان کو دیکھ کر انہیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔ماہرِ نفسیات نے اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے ایک پندرہ سالہ لڑکی کی مثال بھی دی جس نے والدہ کے اسی طرزِ عمل کے باعث ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنے کی شکایت کی۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کی معصومیت کو سوشل میڈیا مواد بنانے سے گریز کیا جائے۔ماہین انوری نے اپنے پیغام میں فضا علی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ والدین کو سوچنا چاہیے کہ اس قسم کے رویے بچوں پر کتنے گہرے اور دیرپا نفسیاتی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بھرپور بحث شروع ہوگئی، جہاں بعض صارفین نے بچوں کے تحفظ پر آواز اٹھانے پر ماہرِ نفسیات کی حمایت کی، جبکہ کئی افراد اداکارہ فضا علی کے حق میں سامنے آئے اور ان کے مؤقف کا دفاع کرتے نظر آئے۔