تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

بچوں کو سوشل میڈیا پر لانا سنگین نفسیاتی خطرہ ،فضا علی تنقید کی زد میں آگئیں

بچوں کو سوشل میڈیا پر لانا سنگین نفسیاتی خطرہ ،فضا علی تنقید کی زد میں آگئیں

 کراچی ( شوبز ڈیسک)پاکستانی کلینیکل ماہرِ نفسیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ماہین انوری نے اداکارہ اور ٹی وی میزبان فضا علی کے پیرنٹنگ انداز پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں بچوں کو آن لائن نمایاں کرنے کے رجحان پر تنقید کی گئی۔ماہین انوری کا کہنا تھا کہ والدین خصوصاً مائیں سوشل میڈیا پر ویوز اور توجہ حاصل کرنے کے لیے کمسن بچوں کو سامنے لا رہی ہیں، جو مستقبل میں ان کی ذہنی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق بچوں کی نجی زندگی کو عوامی مواد بنانا تشویش ناک عمل ہے۔واضح رہے کہ فضا علی انسٹاگرام پر اپنی روزمرہ زندگی کے ساتھ اپنی دس سالہ بیٹی فرال فواد کی تصاویر اور ویڈیوز بھی باقاعدگی سے شیئر کرتی رہتی ہیں۔ اسی تناظر میں ماہین انوری نے فضا علی اور ان کی بیٹی کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اس رجحان کو دیکھ کر انہیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔ماہرِ نفسیات نے اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے ایک پندرہ سالہ لڑکی کی مثال بھی دی جس نے والدہ کے اسی طرزِ عمل کے باعث ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنے کی شکایت کی۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کی معصومیت کو سوشل میڈیا مواد بنانے سے گریز کیا جائے۔ماہین انوری نے اپنے پیغام میں فضا علی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ والدین کو سوچنا چاہیے کہ اس قسم کے رویے بچوں پر کتنے گہرے اور دیرپا نفسیاتی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بھرپور بحث شروع ہوگئی، جہاں بعض صارفین نے بچوں کے تحفظ پر آواز اٹھانے پر ماہرِ نفسیات کی حمایت کی، جبکہ کئی افراد اداکارہ فضا علی کے حق میں سامنے آئے اور ان کے مؤقف کا دفاع کرتے نظر آئے۔