تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

بشریٰ انصاری کا بڑھتی آبادی پر اظہارِ تشویش

بشریٰ انصاری کا بڑھتی آبادی پر اظہارِ تشویش

کراچی( شوبز ڈیسک)بشریٰ انصاری نے ملک میں تیزی سے بڑھتی آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ آبادی میں مسلسل اضافے کے موضوع پر اکثر بات کرتی ہیں اور دعا کرتی ہیں کہ ملک کو اس چیلنج سے نمٹنے میں آسانی ہو۔اداکارہ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے خاندانی منصوبہ بندی اور بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے سے متعلق آگاہی مہمات زیادہ نمایاں نظر آتی تھیں، تاہم اب ایسی سرگرمیاں کم دکھائی دیتی ہیں۔بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے، لیکن انسان کو سوچنے اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی عطا کی گئی ہے۔ ان کے مطابق خاندان کی ضروریات، بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ منصوبہ بندی ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر وسائل محدود ہوں اور بچوں کی تعداد زیادہ ہو تو اس کے اثرات نہ صرف والدین بلکہ بچوں کی زندگی پر بھی پڑتے ہیں، اس لیے معاشرتی اور معاشی حقائق کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔اداکارہ کے اس بیان پر سماجی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جہاں بعض افراد نے ان کی بات کی تائید کی جبکہ کچھ نے اس موضوع پر مزید بحث کی ضرورت پر زور دیا۔