تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

بشریٰ انصاری کا بڑھتی آبادی پر اظہارِ تشویش

بشریٰ انصاری کا بڑھتی آبادی پر اظہارِ تشویش

کراچی( شوبز ڈیسک)بشریٰ انصاری نے ملک میں تیزی سے بڑھتی آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ آبادی میں مسلسل اضافے کے موضوع پر اکثر بات کرتی ہیں اور دعا کرتی ہیں کہ ملک کو اس چیلنج سے نمٹنے میں آسانی ہو۔اداکارہ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے خاندانی منصوبہ بندی اور بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے سے متعلق آگاہی مہمات زیادہ نمایاں نظر آتی تھیں، تاہم اب ایسی سرگرمیاں کم دکھائی دیتی ہیں۔بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے، لیکن انسان کو سوچنے اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی عطا کی گئی ہے۔ ان کے مطابق خاندان کی ضروریات، بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ منصوبہ بندی ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر وسائل محدود ہوں اور بچوں کی تعداد زیادہ ہو تو اس کے اثرات نہ صرف والدین بلکہ بچوں کی زندگی پر بھی پڑتے ہیں، اس لیے معاشرتی اور معاشی حقائق کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔اداکارہ کے اس بیان پر سماجی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جہاں بعض افراد نے ان کی بات کی تائید کی جبکہ کچھ نے اس موضوع پر مزید بحث کی ضرورت پر زور دیا۔