تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

امن کی بات پر تنقید، نورا فتیحی کا ناقدین کو واضح اور سخت جواب

امن کی بات پر تنقید، نورا فتیحی کا ناقدین کو واضح اور سخت جواب

ممبئی( شوبز ڈیسک)بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور رقاصہ نورا فتیحی کو عالمی امن کے حق میں آواز بلند کرنے پر سماجی رابطہ ذرائع پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تاہم انہوں نے ناقدین کو واضح اور سخت جواب دے دیا۔چونتیس سالہ کینیڈا نژاد اداکارہ نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر میں امن اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔نورا فتیحی کے اس بیان کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور خاص طور پر مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے کے الزام پر انہیں تنقیدی تبصروں کا سامنا کرنا پڑا۔اس صورت حال کے بعد اداکارہ نے ایک نئی ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے ان افراد کو مخاطب کیا جو ان کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہے تھے۔ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ لوگ بات سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں حالانکہ تنقیدی سوچ وہ بنیادی صلاحیت ہے جو تعلیم کے دوران ہر انسان سیکھتا ہے۔اداکارہ نے واضح کیا کہ ان کا امن اور اتحاد کا پیغام کسی ایک قوم، ملک یا مذہب کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ان کے مطابق اگر امن کی اپیل کسی کو مشتعل کرتی ہے تو اسے اپنے طرز فکر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ افراتفری کے خلاف آواز اٹھانا کسی کو دشمن نہیں بناتا۔