تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

میری زندگی ہے تو پر صحت مند محبت بحث

میری زندگی ہے تو پر صحت مند محبت بحث

لاہور( شوبز ڈیسک)پاکستانی ڈرامہ ناظرین اس وقت اس بحث میں مصروف ہیں کہ اسکرین پر پیش کیا جانے والا صحت مند محبت کا تصور کیسا ہونا چاہیے۔ ایسے ماحول میں ڈرامہ سیریل میری زندگی ہے تو اپنی کہانی اور کرداروں کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔سیریل میں مرکزی کردار بلال عباس خان اور ہانیہ عامر ادا کر رہے ہیں۔ کہانی ایک بااصول طب کی طالبہ آئرا کے گرد گھومتی ہے، جس کی زندگی میں ایک امیر اور بااثر نوجوان کامیار داخل ہوتا ہے۔ کامیار محبت کو اختیار اور ضد کے امتزاج کے طور پر دیکھتا ہے جہاں انکار کو چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ناظرین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ڈرامے میں وہی پرانا انداز دہرایا گیا ہے جس میں ایک طاقتور اور مالدار مرد مسلسل ایک خاتون کا تعاقب کرتا ہے، اس کے انکار کو نظرانداز کرتا ہے اور بغیر اجازت اس کی زندگی میں مداخلت کرتا ہے، مگر کہانی اسے رومانوی رنگ میں پیش کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ آئرا کی مزاحمت کمزور پڑتی دکھائی جاتی ہے اور وہ بتدریج کامیار کی طرف مائل ہو جاتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ضد اور مسلسل دباؤ ہی محبت کا ثبوت ہیں۔سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ مسئلہ صرف ایک کردار کے رویے تک محدود نہیں بلکہ ڈرامے کی تحریر اور آئرا کے کردار کی محدود نشوونما بھی سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق سیریل نہ صرف منفی رویوں کو دکھاتی ہے بلکہ انہیں معمول اور قابل قبول بنا کر پیش کرتی ہے۔کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ کہانی میں ایک ایسے شخص کو، جو جارحانہ مزاج اور نشے کی عادت کا حامل دکھایا گیا ہے، کسی نہ کسی انداز میں جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ بعض مناظر میں مذہبی حوالوں کو اخلاقی برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا جا رہا ہے۔