ممبئی( شو بز ڈیسک)200 کروڑ روپے مالیت کے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں بھارتی عدالت نے جیکولین فرنینڈس سمیت 15 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقدمے کے مرکزی ملزم سکیش چندر شیکھر، ان کی اہلیہ لینا ماریا پال، پنکی ایرانی، دیپک رمنانی اور دیگر افراد بھی اس مقدمے میں شامل ہیں۔نئی دہلی کی عدالت نے ریمارکس دیے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر تمام ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے بادی النظر میں کافی مواد موجود ہے۔ عدالت نے مزید کارروائی کے لیے تمام ملزمان کو 3 جون کو طلب کر لیا ہے۔رپورٹس کے مطابق جیکولین فرنینڈس کا نام گزشتہ چند برسوں سے سکیش چندر شیکھر کے خلاف جاری تحقیقات میں سامنے آتا رہا ہے، جبکہ تفتیشی ادارے متعدد مواقع پر ان سے پوچھ گچھ بھی کر چکے ہیں۔تحقیقات کے مطابق سکیش چندر شیکھر پر مختلف افراد سے بھتہ خوری اور مالی فراڈ کے ذریعے بڑی مقدار میں رقم حاصل کرنے کے الزامات عائد ہیں۔بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ جیکولین فرنینڈس نے مبینہ طور پر سکیش چندر شیکھر سے قیمتی تحائف اور مالی فوائد حاصل کیے، تاہم مقدمے کے حتمی فیصلے تک تمام الزامات عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔