تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

چودہ سال پرانی رنجش ختم، کرشنا ابھیشیک اور سنیتا آہوجا گلے مل گئے

چودہ سال پرانی رنجش ختم، کرشنا ابھیشیک اور سنیتا آہوجا گلے مل گئے

ممبئی( شوبز ڈیسک)بھارتی شوبز شخصیات کرشنا ابھیشیک اور ان کی مامی سنیتا آہوجا کے درمیان برسوں پرانی ناراضی بالآخر ختم ہو گئی اور دونوں کے تعلقات بحال ہو گئے۔دونوں کے درمیان صلح ایک نجی تفریحی پروگرام کے سیٹ پر ہوئی، جہاں ملاقات کے دوران خوشگوار ماحول دیکھنے میں آیا، ہنسی مذاق کے ساتھ جذباتی لمحات بھی سامنے آئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر رنجشوں کا خاتمہ کر دیا۔اس موقع پر کرشنا ابھیشیک کی اہلیہ کشمیرا شاہ بھی موجود تھیں، جبکہ اس منظر کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے جس میں تینوں کو خوشگوار موڈ میں دیکھا جا سکتا ہے۔سنیتا آہوجا نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے بعد دلوں کی دوریاں ختم ہوئیں، اب وہ کسی سے ناراض نہیں رہنا چاہتیں بلکہ سب کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے ہی لوگوں سے کب تک ناراضی رکھی جا سکتی ہے، جب سب اپنی زندگی میں خوش ہیں تو دلوں میں کدورت رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔واضح رہے کہ ایک مزاحیہ پروگرام میں ہونے والا معمولی تنازع وقت کے ساتھ بڑھ کر خاندانی اختلاف میں بدل گیا تھا جو طویل عرصے تک موضوع بحث بنا رہا۔