تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

حبیب جالب کا 98واں یوم پیدائش آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

حبیب جالب کا 98واں یوم پیدائش آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

لاہور( شو بز ڈیسک) شاعرِ عوام حبیب جالب کا 98واں یوم پیدائش آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ جبر اور ناانصافی کے خلاف بے خوف آواز بلند کرنے والے حبیب جالب نے اپنے انقلابی کلام کے ذریعے عوام کے دلوں میں خاص مقام بنایا۔حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئے اور بعد ازاں لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ابتدائی دور میں انہوں نے رومانوی شاعری کی، تاہم معاشرے میں بڑھتے ہوئے ظلم و استحصال کو دیکھ کر ان کی شاعری نے انقلابی رنگ اختیار کر لیا۔ ان کے اشعار نے ہمیشہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف عوام کی ترجمانی کی اور زبان زد عام بنے۔حبیب جالب نے سابق صدر ایوب خان کے دور میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا۔ معروف شاعر فیض احمد فیض بھی انہیں عوامی شاعر قرار دیتے تھے۔ان کے نمایاں شعری مجموعوں میں برگ آوارہ، سر مقتل، عہد ستم، حرف حق، ذکر بہتے خون کا، عہد سزا، گنبد بے در، گوشے میں قفس کے، حرف سردار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں۔حبیب جالب نے فلموں کے لیے بھی گیت تحریر کیے جن میں یہ امن، پرائی آگ، ناگ منی، خاموش رہو، شام ڈھلے، ماں بہو بیٹا، بے رحم اور کون کسی کا شامل ہیں، جبکہ فلم زرکا کے لیے ان کا گیت خاص طور پر مقبول ہوا۔اپنی بے باک اور بیدار کرنے والی شاعری کے باعث حبیب جالب آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں اور ان کی آواز ہر دور میں حق و سچ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔