تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

حبیب جالب کا 98واں یوم پیدائش آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

حبیب جالب کا 98واں یوم پیدائش آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

لاہور( شو بز ڈیسک) شاعرِ عوام حبیب جالب کا 98واں یوم پیدائش آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ جبر اور ناانصافی کے خلاف بے خوف آواز بلند کرنے والے حبیب جالب نے اپنے انقلابی کلام کے ذریعے عوام کے دلوں میں خاص مقام بنایا۔حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئے اور بعد ازاں لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ابتدائی دور میں انہوں نے رومانوی شاعری کی، تاہم معاشرے میں بڑھتے ہوئے ظلم و استحصال کو دیکھ کر ان کی شاعری نے انقلابی رنگ اختیار کر لیا۔ ان کے اشعار نے ہمیشہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف عوام کی ترجمانی کی اور زبان زد عام بنے۔حبیب جالب نے سابق صدر ایوب خان کے دور میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا۔ معروف شاعر فیض احمد فیض بھی انہیں عوامی شاعر قرار دیتے تھے۔ان کے نمایاں شعری مجموعوں میں برگ آوارہ، سر مقتل، عہد ستم، حرف حق، ذکر بہتے خون کا، عہد سزا، گنبد بے در، گوشے میں قفس کے، حرف سردار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں۔حبیب جالب نے فلموں کے لیے بھی گیت تحریر کیے جن میں یہ امن، پرائی آگ، ناگ منی، خاموش رہو، شام ڈھلے، ماں بہو بیٹا، بے رحم اور کون کسی کا شامل ہیں، جبکہ فلم زرکا کے لیے ان کا گیت خاص طور پر مقبول ہوا۔اپنی بے باک اور بیدار کرنے والی شاعری کے باعث حبیب جالب آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں اور ان کی آواز ہر دور میں حق و سچ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔