تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

حبیب جالب کا 98واں یوم پیدائش آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

حبیب جالب کا 98واں یوم پیدائش آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

لاہور( شو بز ڈیسک) شاعرِ عوام حبیب جالب کا 98واں یوم پیدائش آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ جبر اور ناانصافی کے خلاف بے خوف آواز بلند کرنے والے حبیب جالب نے اپنے انقلابی کلام کے ذریعے عوام کے دلوں میں خاص مقام بنایا۔حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئے اور بعد ازاں لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ابتدائی دور میں انہوں نے رومانوی شاعری کی، تاہم معاشرے میں بڑھتے ہوئے ظلم و استحصال کو دیکھ کر ان کی شاعری نے انقلابی رنگ اختیار کر لیا۔ ان کے اشعار نے ہمیشہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف عوام کی ترجمانی کی اور زبان زد عام بنے۔حبیب جالب نے سابق صدر ایوب خان کے دور میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا۔ معروف شاعر فیض احمد فیض بھی انہیں عوامی شاعر قرار دیتے تھے۔ان کے نمایاں شعری مجموعوں میں برگ آوارہ، سر مقتل، عہد ستم، حرف حق، ذکر بہتے خون کا، عہد سزا، گنبد بے در، گوشے میں قفس کے، حرف سردار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں۔حبیب جالب نے فلموں کے لیے بھی گیت تحریر کیے جن میں یہ امن، پرائی آگ، ناگ منی، خاموش رہو، شام ڈھلے، ماں بہو بیٹا، بے رحم اور کون کسی کا شامل ہیں، جبکہ فلم زرکا کے لیے ان کا گیت خاص طور پر مقبول ہوا۔اپنی بے باک اور بیدار کرنے والی شاعری کے باعث حبیب جالب آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں اور ان کی آواز ہر دور میں حق و سچ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔