تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

مولانا طارق جمیل اور کاشف ضمیر کی ملاقات کی ویڈیو پر سوشل میڈیا بحث

مولانا طارق جمیل اور کاشف ضمیر کی ملاقات کی ویڈیو پر سوشل میڈیا بحث

 لاہور( شو بز ڈیسک)پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل اور سوشل میڈیا شخصیت کاشف ضمیر کی ایک حالیہ ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مختلف حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کاشف ضمیر نے مولانا طارق جمیل کو ایک معروف برانڈ کی گھڑی تحفے میں پیش کی، جسے انہوں نے قبول کیا۔ بعد ازاں کاشف ضمیر نے یہ ویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کر دی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔مولانا طارق جمیل ملک کے ممتاز مذہبی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے اصلاحی بیانات اور دینی خطابات کو مختلف طبقوں میں پذیرائی حاصل ہے۔ وہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے ملاقاتوں کے باعث بھی اکثر خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد بعض صارفین نے کاشف ضمیر کے تحائف دینے کے انداز پر تنقید کی اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ماضی میں بھی مختلف شخصیات کو قیمتی اشیاء پیش کرتے رہے ہیں۔ کچھ صارفین نے گھڑی کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں کیں کہ یہ اصل نہیں بلکہ نقل ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی تصدیق شدہ معلومات موجود نہیں۔دوسری جانب کچھ صارفین نے مولانا طارق جمیل کی جانب سے تحفہ قبول کرنے کے عمل پر سوالات اٹھائے، جبکہ دیگر نے محتاط رائے اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے کے لیے مصدقہ معلومات ضروری ہیں۔سوشل میڈیا پر اس موضوع پر بحث جاری ہے اور صارفین مختلف زاویوں سے اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔