تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

وراثتی جائیداد تنازع: راحت فتح علی خان کو عدالت سے اہم ریلیف مل گیا

وراثتی جائیداد تنازع: راحت فتح علی خان کو عدالت سے اہم ریلیف مل گیا

لاہور( شو بز ڈیسک)معروف پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان کو وراثتی جائیداد سے متعلق مقدمے میں اہم قانونی ریلیف حاصل ہو گیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے کورٹ فیس جمع نہ کرانے کی بنیاد پر اپیل خارج کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے راحت فتح علی خان کی اپیل بحال کر دی ہے۔جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی۔عدالتی فیصلے کے مطابق راحت فتح علی خان نے فیصل آباد میں ایک کنال نو مرلہ دو منزلہ مکان پر اپنے قبضے کی تصدیق کے لیے سول عدالت سے رجوع کیا تھا۔ بعد ازاں سول عدالت نے 14 مئی 2019 کو ان کے خلاف فیصلہ دیا، جس کے بعد انہوں نے ٹرائل کورٹ میں اپیل دائر کی۔فیصلے میں بتایا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے پندرہ ہزار روپے کورٹ فیس جمع نہ کرانے پر اپیل تکنیکی بنیادوں پر خارج کر دی تھی، جس کے خلاف راحت فتح علی خان نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ محض کورٹ فیس کی عدم ادائیگی یا دیگر تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر اپیل کو مسترد کرنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اپیل کا حق ایک اہم قانونی حق ہے اور اسے صرف تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔