لاہور( شو بز ڈیسک)معروف پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان کو وراثتی جائیداد سے متعلق مقدمے میں اہم قانونی ریلیف حاصل ہو گیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے کورٹ فیس جمع نہ کرانے کی بنیاد پر اپیل خارج کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے راحت فتح علی خان کی اپیل بحال کر دی ہے۔جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی۔عدالتی فیصلے کے مطابق راحت فتح علی خان نے فیصل آباد میں ایک کنال نو مرلہ دو منزلہ مکان پر اپنے قبضے کی تصدیق کے لیے سول عدالت سے رجوع کیا تھا۔ بعد ازاں سول عدالت نے 14 مئی 2019 کو ان کے خلاف فیصلہ دیا، جس کے بعد انہوں نے ٹرائل کورٹ میں اپیل دائر کی۔فیصلے میں بتایا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے پندرہ ہزار روپے کورٹ فیس جمع نہ کرانے پر اپیل تکنیکی بنیادوں پر خارج کر دی تھی، جس کے خلاف راحت فتح علی خان نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ محض کورٹ فیس کی عدم ادائیگی یا دیگر تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر اپیل کو مسترد کرنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اپیل کا حق ایک اہم قانونی حق ہے اور اسے صرف تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔