تازہ ترین
اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ثاقب چدھڑ اور اہلیہ کی ضمانت میں توسیع سوہائے علی ابڑو نے علیحدگی کی افواہوں کی تردید کر دی کبریٰ خان کی سارہ علی خان اور شرمیلا ٹیگور کے ساتھ ویڈیووائرل شہرت عارضی ہے:ماہرہ خان کا انکشاف بچوں کے تحفظ کے معاملے پر میٹا کی مشکلات بڑھنے کا امکان چین نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر تیار کر لیا مصنوعی ذہانت چند برسوں میں انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے، ایلون مسک
پاکستان خبر

ایران کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات میں دعوت کی خبروں کی تردید

ایران کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات میں دعوت کی خبروں کی تردید

 تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی دعوت دی ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بعض ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی یہ رپورٹس بے بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شقوں کے مطابق جوہری معاملے پر مذاکرات مخصوص مدت اور شرائط کے تحت ہوں گے، جن میں پہلے سے طے شدہ تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے۔اسماعیل بقائی کے مطابق 60 روزہ مدت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی، جبکہ بعض جوہری مراکز میں معمول کے معائنے جاری رہیں گے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ تنصیبات جہاں سابقہ حملوں کے باعث بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی معطل کی گئی تھی، ان کے معائنے آئندہ مذاکرات اور ان کے نتائج سے مشروط ہوں گے۔ایرانی ترجمان نے زور دیا کہ اس معاملے سے متعلق تمام آئندہ پیش رفت جاری مذاکرات اور ان کے حتمی نتائج کے مطابق طے کی جائے گی۔