تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

کرن جوہر اور کیری میناٹی میں قانونی تنازع، عدالت کا ویڈیو ہٹانے کا حکم

کرن جوہر اور کیری میناٹی میں قانونی تنازع، عدالت کا ویڈیو ہٹانے کا حکم

ممبئی( شوبز ڈیسک)نامور بھارتی فلم ساز کرن جوہر اور معروف یوٹیوبر اجے نگر المعروف کیری میناٹی کے درمیان قانونی تنازع نے سوشل میڈیا اور شوبز حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کیری میناٹی نے اپنے یوٹیوب چینل پر ’’کافی ود جلن‘‘ کے عنوان سے ایک پیروڈی ویڈیو اپ لوڈ کی، جو کرن جوہر کے مشہور شو ’’کافی ود کرن‘‘ سے متاثر تھی۔ ویڈیو میں بالی وڈ میں اقربا پروری سمیت مختلف موضوعات پر طنزیہ انداز اپنایا گیا تھا۔کرن جوہر کا مؤقف ہے کہ ویڈیو مزاح کی حدود سے آگے بڑھ کر ذاتی حملوں میں تبدیل ہو گئی۔ عدالت میں دائر درخواست میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ویڈیو میں نازیبا زبان استعمال کی گئی اور ان کے نام کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جس سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی۔9 فروری کو ممبئی کی ایک عدالت نے ابتدائی سماعت کے دوران فوری احکامات جاری کیے۔ جج بھوسلے نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں اجے نگر اور ان کے چینل کے منیجر دیپک چار کی جانب سے توہین آمیز بیانات اور نامناسب زبان استعمال کی گئی۔عدالت نے مذکورہ ویڈیو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ اس نوعیت کے مواد کی اشاعت سے گریز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔