نیو یارک( ویب ڈیسک)امریکہ کی ایک عدالت میں ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے بعد ایک 24 سالہ خاتون نے خودکشی کر لی۔مقدمہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کی عدالت میں کینیڈا سے تعلق رکھنے والی خاتون کی جانب سے دائر کیا گیا، جن کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی ایلس ابتدا میں کمپیوٹر اور دیگر مسائل کے حل کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتی تھی، تاہم وقت کے ساتھ اس پر اس کا انحصار بڑھتا گیا۔درخواست گزار کے مطابق ایلس نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ذہنی دباؤ اور خودکشی کے خیالات سے متعلق چیٹ جی پی ٹی سے بات چیت کی، مگر مبینہ طور پر حفاظتی نظام مؤثر انداز میں مداخلت نہ کر سکا۔مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام نے ایلس کو جذباتی سہارا دینے والے ساتھی کی طرح جواب دیا، جس کے باعث وہ حقیقی مدد کے ذرائع سے دور ہوتی گئی۔دوسری جانب اوپن اے آئی کے ترجمان نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایلس جس نظام کا استعمال کر رہی تھیں وہ اب دستیاب نہیں ہے۔