تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ترکی میں بڑا کریک ڈاؤن، معروف اداکارہ سمیت اہم شخصیات گرفتار

ترکی میں بڑا کریک ڈاؤن، معروف اداکارہ سمیت اہم شخصیات گرفتار

 انقرہ( شوبز ڈیسک)ترکی میں منشیات کے خلاف جاری کریک ڈاؤن نے سنسنی پھیلا دی، جہاں معروف اداکارہ ہانڈے ارچل سمیت شوبز، کھیل اور کاروباری شعبوں سے وابستہ کئی نمایاں شخصیات کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق استنبول کے پراسیکیوٹرز کی جانب سے مجموعی طور پر 16 افراد کے خلاف حراستی احکامات جاری کیے گئے، جن میں سابق فٹبال کلب صدور فکریت اورمن اور براق الماس بھی شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو استنبول کے انسداد منشیات شعبے نے اپنی تحویل میں لیا۔تحقیقات کے دائرہ کار میں معروف کاروباری شخصیات حاقان سبانشی اور کریم سبانشی، ماڈل دیدم سوئیدان اور ٹی وی میزبان گزیدی دُران کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد یہ معاملہ مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔حکام کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں بیک وقت 16 مقامات پر چھاپے مارے گئے، جس کے نتیجے میں 14 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ دیگر دو افراد کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔استنبول کے چیف سرکاری وکیل کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد معاشرتی اقدار اور خاندانی نظام کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر ان افراد کے خلاف کارروائی کی گئی جن پر منشیات رکھنے یا اس کے استعمال میں سہولت کاری کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ مزید اہم انکشافات بھی متوقع ہیں۔