تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ندا یاسر نے ٹرولنگ سے نمٹنے کا راز بتا دیا

ندا یاسر نے ٹرولنگ سے نمٹنے کا راز بتا دیا

کراچی ( شوبز ڈیسک)ندا یاسر نے سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ سے نمٹنے کا طریقہ کار کھل کر بیان کر دیا۔ ایک یوٹیوب پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ ابتدا میں منفی تبصرے انہیں شدید متاثر کرتے تھے۔ وہ اس قدر پریشان ہو جاتی تھیں کہ چاہتی تھیں ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہی نہ کی جائیں تاکہ گھر والے، خصوصاً ساس سسر، یہ تنقیدی کمنٹس نہ دیکھ سکیں۔ندا یاسر کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ خاندان کی حمایت سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر اور سسرالی رشتہ دار ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے رہے اور کسی بھی تنقید کا ڈٹ کر سامنا کیا۔ماضی میں پیش آنے والے فارمولا ون سے متعلق ایک وائرل کلپ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر ان کے بچوں نے بھی پہلی مرتبہ مزاحیہ انداز میں انہیں چھیڑا اور پوچھا کہ آخر یہ کیا ہو گیا۔ تاہم ان کے شوہر نے اس وقت بھی ان کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ واقعہ کئی برس پرانا ہے اور اس وقت انہیں واقعی فارمولا ون کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلے وہ سوشل میڈیا پر تنقید کا جواب دیتی تھیں، لیکن بعد میں سمجھ آیا کہ ردعمل دینے سے معاملہ مزید پھیل جاتا ہے۔ اب وہ منفی تبصروں کو نظر انداز کرنا ہی بہتر سمجھتی ہیں اور اپنی توجہ کام پر مرکوز رکھتی ہیں۔