تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

شمعون عباسی کی مبینہ جرائم پر مبنی ڈرامے کی مخالفت، ٹی وی مواد پر سوالات اٹھا دیے

شمعون عباسی کی مبینہ جرائم پر مبنی ڈرامے کی مخالفت، ٹی وی مواد پر سوالات اٹھا دیے

کراچی ( شوبز ڈیسک)فلم ساز اور اداکار شمعون عباسی نے مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کی زندگی پر مبنی مجوزہ ڈراما سیریل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کہانیاں ٹیلی ویژن اسکرین کے لیے موزوں نہیں ہیں۔سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں شمعون عباسی نے سوال اٹھایا کہ آخر معاشرے میں موجود مثبت، حوصلہ افزا اور کامیابی کی کہانیوں کے بجائے منفی کرداروں کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی جدوجہد اور کامیابی پر مبنی بے شمار ایسی کہانیاں موجود ہیں جنہیں ٹی وی پر دکھا کر معاشرے میں مثبت پیغام دیا جا سکتا ہے۔شمعون عباسی نے ان اطلاعات پر بھی تبصرہ کیا کہ اس منصوبے میں اداکارہ صبا قمر کو مرکزی کردار کے لیے زیر غور لایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق صبا قمر ایک باصلاحیت اداکارہ ہیں جو کسی بھی کردار کو مؤثر انداز میں نبھا سکتی ہیں۔انہوں نے صبا قمر کے ڈرامے "کیس نمبر 9" کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے معاشرتی مسائل خصوصاً ہراسانی کے حوالے سے آگاہی پیدا کی۔اداکار کا کہنا تھا کہ اگر کسی متنازع یا منفی کہانی کو پیش کرنا ہی مقصود ہو تو اسے فلمی اسکرین پر دکھایا جانا چاہیے، کیونکہ سنیما دیکھنا ناظرین کی اپنی پسند پر منحصر ہوتا ہے، جبکہ ٹی وی ڈرامے گھروں میں ہر عمر کے افراد کی دسترس میں ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی مجرم یا متنازع شخصیت کی کہانی کو عوامی سطح پر پیش کرنا ایک حساس معاملہ ہے اور اس میں ذمہ داری اور احتیاط ضروری ہے۔شمعون عباسی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ایسے منصوبے اکثر وائرل واقعات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہوتے ہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیل دینے سے گریز کیا۔واضح رہے کہ اطلاعات کے مطابق ایک پروڈکشن ہاؤس کراچی کی مبینہ منشیات فروش شخصیت کی زندگی پر مبنی ڈراما سیریز تیار کر رہا ہے، جس کے سکرپٹ اور کاسٹ کے حوالے سے مختلف نام سامنے آ رہے ہیں۔ماضی میں بھی حقیقی جرائم پر مبنی مواد پاکستان میں بحث کا باعث بنتا رہا ہے اور اس کی نمائش اور پیشکش پر مختلف مواقع پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔