تازہ ترین
وزیراعظم کی عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت سمر انٹرن شپ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست بھارتی آپریشن سندور کی ڈاکومینٹری حقائق کے منافی ہے: آئی ایس پی آر بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ میلانیا ٹرمپ کی محدود عوامی سرگرمیاں، نئی بحث چھڑ گئی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور شدید متاثر امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی وی کیلئے 13 ارب روپے کی اضافی گرانٹ منظور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار 602 پوائنٹس پر پہنچ گیا سندھ میں گیس کا اہم ذخیرہ دریافت، نئی ایکسپلوریشن راہ کھل گئی بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے 4 فاسٹ بولرز کھلانے پر غور انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ، بابر اعظم کی شرکت میڈیکل کلیئرنس سے مشروط رونالڈو اور جارجینا کی گھر میں سادہ شادی، بڑی تقریب بعد میں ہوگی
پاکستان خبر

پاکستان کا سلامتی کونسل میں بھارت کو جواب، کشمیر کو بین الاقوامی مسئلہ قرار دے دیا

پاکستان کا سلامتی کونسل میں بھارت کو جواب، کشمیر کو بین الاقوامی مسئلہ قرار دے دیا

 اسلام آباد( پاکستان خبر) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، بلکہ یہ ایک بین الاقوامی تنازع ہے۔تنازعات کے پرامن حل سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک وفد نے حقائق کو مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے بحث کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے امن کا درس دینا باعثِ حیرت ہے، کیونکہ پاکستان کے مطابق بھارت خود بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور خطے کے امن سے متعلق اصولوں کی خلاف ورزیوں کا مرتکب رہا ہے۔قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود جموں و کشمیر کا معاملہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، تاہم اب وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں۔پاکستانی نمائندے نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں نمایاں فرق ہے، جہاں ایک جانب سیاسی سرگرمیوں کی گنجائش موجود ہے جبکہ دوسری جانب گرفتاریوں اور انسانی حقوق سے متعلق شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جبکہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی اصولوں اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہے۔