تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

فون ہیک اور گھر میں جاسوسی ہو رہی ہے،ایلزبتھ ہرلی کا چونکا دینے والا دعویٰ

فون ہیک اور گھر میں جاسوسی ہو رہی ہے،ایلزبتھ ہرلی کا چونکا دینے والا دعویٰ

 لند ن ( شوبز ڈیسک)برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ہالی ووڈ اداکارہ ایلزبتھ ہرلی نے میڈیا کی جانب سے نجی معلومات تک غیرقانونی رسائی سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کی ایک عدالت میں جاری ہائی پروفائل مقدمے کی سماعت کے دوران اپنی نجی زندگی میں ہونے والی سنگین مداخلت پر تفصیلی بیان ریکارڈ کروایا۔یہ مقدمہ برطانوی میڈیا گروپ ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے خلاف دائر کیا گیا ہے، جس میں ایلزبتھ ہرلی سمیت متعدد عالمی شہرت یافتہ شخصیات نے پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ساٹھ سالہ ایلزبتھ ہرلی، شہزادہ ہیری اور معروف گلوکار ایلٹن جان ان سات مدعیان میں شامل ہیں جنہوں نے اخبار کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔عدالت میں بیان دیتے ہوئے ایلزبتھ ہرلی نے بتایا کہ ان کے بارے میں شائع ہونے والی پندرہ سے زائد خبریں ایسے مواد پر مبنی تھیں جو غیرقانونی ذرائع سے حاصل کیا گیا تھا۔اداکارہ کے مطابق ان کے موبائل فونز ہیک کیے گئے جبکہ ان کے گھر میں خفیہ مائیکروفون نصب کر کے نجی گفتگو ریکارڈ کی جاتی رہی، جسے بعد ازاں خبروں کی شکل میں شائع کیا گیا۔ایلزبتھ ہرلی نے عدالت کو بتایا کہ اس عمل نے ان کی ذاتی زندگی، ذہنی سکون اور تحفظ کے احساس کو بری طرح متاثر کیا، جسے وہ بہیمانہ مداخلت قرار دیتی ہیں۔