تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

تھلاپتی وجے نے اہلیہ کی طلاق کی درخواست کے بعد اپنی شادی تنازع سب کچھ بتادیا

تھلاپتی وجے نے اہلیہ کی طلاق کی درخواست کے بعد اپنی شادی تنازع سب کچھ بتادیا

ممبئی( شوبز ڈیسک)بھارتی اداکار اور ساؤتھ انڈسٹری کے سپر اسٹار تھلاپتی وجے نے اہلیہ کی جانب سے طلاق کی درخواست دائر ہونے کے بعد اپنی شادی سے متعلق جاری تنازع پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق چند روز قبل وجے کی اہلیہ سنگیتا سورنالنگم نے 25 سالہ رفاقت کے بعد عدالت میں طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔ سماجی کارکن اور کاروباری شخصیت سنگیتا نے ریاست تمل ناڈو کے ضلع چینگلپٹو کی عدالت میں درخواست دیتے ہوئے شادی کے باقاعدہ خاتمے کے لیے استدعا کی، ساتھ ہی طلاق کے بعد مستقل نان و نفقہ اور ازدواجی گھر میں رہائش جاری رکھنے کی بھی درخواست کی۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے تھلاپتی وجے نے کہا کہ میرے گرد موجود حالیہ مسائل کے بارے میں فکر نہ کریں کیونکہ یہ آپ کے وقت کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود ان معاملات کو سنبھال لیں گے اور سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ ان کے مسائل کی وجہ سے لوگ پریشان یا دکھی ہوں۔تازہ رپورٹس کے مطابق سنگیتا سورنالنگم نے عدالت میں نئی درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے ازدواجی گھر میں رہائشی حقوق کے لیے مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ یا تو اسی گھر میں رہنے کا حق چاہتی ہیں یا متبادل رہائش کے ساتھ مناسب اور مستقل نان و نفقہ کی درخواست کر رہی ہیں۔