تازہ ترین
ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی کنٹرول یقینی بنایا جائے، شرمیلا فاروقی کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا کے ہاں دوسرے بچے کی خوشخبری حریم فاروق یونیورسٹی میں لباس کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کا شکار سعود قاسمی کا نادیہ خان پر شوبز میں تنازعات بڑھانے کا الزام شاہ ویر جعفری کی پہلی ٹی وی پرفارمنس، مداحوں کے دلچسپ تبصرے کرسٹیانو رونالڈو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کی خبر مسترد کردی ورلڈکپ 2027، پاک بھارت میچ کیلئے ایک لاکھ 10 ہزار ٹکٹ درخواستیں گرلز ہاکی کی تربیت کیلئے دو غیرملکی کوچز پاکستان پہنچ گئے حسن نواز کی ٹی ٹوئنٹی درجہ بندی میں 62 درجے شاندار ترقی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری تسلیم کر رہے ہیں: وزیر خزانہ پنشن بچت کنندگان کیلئے کم لاگت سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ متعارف پاکستان جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کی مین لائن ون منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت زیلنسکی کا روس کی یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کا دعویٰ ایران کیخلاف جنگ، 81 امریکی فوجی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ سعودی کابینہ کا یمن کی آئینی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان خبر

چینی ادارے پر جاسوسی کا الزام، برطانوی جامعات کو تعلقات ختم کرنے کی ہدایت

چینی ادارے پر جاسوسی کا الزام، برطانوی جامعات کو تعلقات ختم کرنے کی ہدایت

لندن( مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کی داخلی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو نے چین سے وابستہ ایک تحقیقی ادارے پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ برطانوی جامعات میں ہونے والی تحقیق سے چینی انٹیلی جنس کی تکنیکی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد لے رہا ہے۔ایم آئی فائیو نے غیر معمولی عوامی انتباہ جاری کرتے ہوئے برطانوی تعلیمی اداروں کو چائنا جنرل ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ موجودہ اور مستقبل کے تحقیقی تعاون کا فوری جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ ادارے کے مطابق اس چینی تنظیم کے چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی سے مضبوط روابط ہیں۔برطانوی خفیہ ایجنسی کے مطابق 100 سے زائد برطانیہ سے وابستہ ماہرینِ تعلیم ایسے تحقیقی منصوبوں کا حصہ رہے ہیں جن کیلئے اس ادارے کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی گئی۔ ان منصوبوں میں مصنوعی ذہانت، سائبر تحفظ اور دیگر حساس ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق شامل ہے۔ بعض محققین کو ممکنہ طور پر اس مالی معاونت کے اصل ذریعے کا علم نہیں تھا۔ایم آئی فائیو نے خبردار کیا ہے کہ ادارے کے ساتھ ایسے تحقیقی روابط جاری رکھنے والے جامعات، محققین اور دیگر افراد کو برطانیہ کے قومی سلامتی سے متعلق قوانین کے تحت قانونی خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایجنسی نے تعلیمی اداروں کو تحقیق کیلئے حاصل ہونے والی چینی مالی معاونت کے اصل ذریعے کی جانچ پڑتال کا بھی مشورہ دیا ہے۔برطانوی سلامتی کے وزیر ڈین جاروس نے بھی جامعات کے سربراہان کو چینی ادارے کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ ڈین جاروس 21 جولائی 2026 سے سلامتی کے وزیر کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔دوسری جانب چین نے جاسوسی سے متعلق برطانوی الزامات کو مسترد کیا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ چین اور برطانیہ کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون معمول کے مطابق اور باہمی رضامندی سے ہوتا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ چین کے ساتھ تعلقات میں اقتصادی اور سفارتی تعاون جاری رکھنے کے ساتھ قومی سلامتی سے متعلق خدشات پر بھی توجہ دے رہا ہے۔