تازہ ترین
اب خوشبوئیں بھی آن لائن شیئر ہوں گی، ڈیجیٹل مہک کی نئی ٹیکنالوجی تیار مصنوعی ذہانت پر بڑھتے انحصار کے باعث بارکلے بینک کا 5 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان وین گوو کی شہرہ آفاق پینٹنگ ’دی اسٹاری نائٹ‘ سے متعلق سائنس دانوں کا حیران کن انکشاف ڈیپ سیک اور منی میکس کو اے آئی ماڈلز اوپن سورس کرنے کی منظوری مل گئی عرفی جاوید شہریار منور کی معترف، دبئی میں ملاقات کا احوال سنا دیا ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کے خلاف منشیات کیس میں اہم پیشرفت ماورا حسین اور امیر گیلانی کے گھر بیٹے کی پیدائش دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد دیپیکا پاڈوکون کی شاہ رخ خان کے ساتھ فلمی دنیا میں واپسی فرانس میں حکومت مخالف احتجاج، پی ایس جی اور لیون کا فٹبال میچ ملتوی چھاتی کے کینسر سے آگاہی مہم، پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے خلاف ون ڈے میں گلابی کٹ پہنے گی کرسٹیانو رونالڈو فٹبال کی تاریخ کے پہلے ملٹی بلینیئر کھلاڑی بن گئے پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے فائنل کا شیڈول تبدیل، میچز لاہور میں ہونے کا امکان 23 سال بعد پاکستانی صدر کا جرمنی کا دورہ، آصف زرداری کو گارڈ آف آنر پیش پاکستان سرحدوں کی حفاظت کے لیے مکمل تیار ہے، دہشت گردی افغانستان سے آرہی ہے، ترجمان دفتر خارجہ اسلام آباد میں مین ہیٹن طرز کا منصوبہ بنانے کا اعلان، سعودی سرمایہ کاروں کو دعوت فورسز کے ساتھ مخلصانہ طور پر کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعت مائنس ہوجائے گی: رانا ثنا اللہ
پاکستان خبر

چینی ادارے پر جاسوسی کا الزام، برطانوی جامعات کو تعلقات ختم کرنے کی ہدایت

چینی ادارے پر جاسوسی کا الزام، برطانوی جامعات کو تعلقات ختم کرنے کی ہدایت

لندن( مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کی داخلی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو نے چین سے وابستہ ایک تحقیقی ادارے پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ برطانوی جامعات میں ہونے والی تحقیق سے چینی انٹیلی جنس کی تکنیکی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد لے رہا ہے۔ایم آئی فائیو نے غیر معمولی عوامی انتباہ جاری کرتے ہوئے برطانوی تعلیمی اداروں کو چائنا جنرل ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ موجودہ اور مستقبل کے تحقیقی تعاون کا فوری جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ ادارے کے مطابق اس چینی تنظیم کے چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی سے مضبوط روابط ہیں۔برطانوی خفیہ ایجنسی کے مطابق 100 سے زائد برطانیہ سے وابستہ ماہرینِ تعلیم ایسے تحقیقی منصوبوں کا حصہ رہے ہیں جن کیلئے اس ادارے کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی گئی۔ ان منصوبوں میں مصنوعی ذہانت، سائبر تحفظ اور دیگر حساس ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق شامل ہے۔ بعض محققین کو ممکنہ طور پر اس مالی معاونت کے اصل ذریعے کا علم نہیں تھا۔ایم آئی فائیو نے خبردار کیا ہے کہ ادارے کے ساتھ ایسے تحقیقی روابط جاری رکھنے والے جامعات، محققین اور دیگر افراد کو برطانیہ کے قومی سلامتی سے متعلق قوانین کے تحت قانونی خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایجنسی نے تعلیمی اداروں کو تحقیق کیلئے حاصل ہونے والی چینی مالی معاونت کے اصل ذریعے کی جانچ پڑتال کا بھی مشورہ دیا ہے۔برطانوی سلامتی کے وزیر ڈین جاروس نے بھی جامعات کے سربراہان کو چینی ادارے کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ ڈین جاروس 21 جولائی 2026 سے سلامتی کے وزیر کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔دوسری جانب چین نے جاسوسی سے متعلق برطانوی الزامات کو مسترد کیا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ چین اور برطانیہ کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون معمول کے مطابق اور باہمی رضامندی سے ہوتا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ چین کے ساتھ تعلقات میں اقتصادی اور سفارتی تعاون جاری رکھنے کے ساتھ قومی سلامتی سے متعلق خدشات پر بھی توجہ دے رہا ہے۔