کیلیفورنیا(ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار پیش رفت نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی راہیں کھولی ہیں، تاہم اس کے ممکنہ نقصانات اور خطرات پر بھی بحث میں شدت آتی جارہی ہے۔مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھراپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے ملازمت چھوڑتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اینتھراپک اور اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی، اے آئی کی ترقی کے دوران انسانی زندگی کے لیے انتہائی سنگین خطرات مول لے رہی ہیں۔دونوں کمپنیوں میں بطور محقق کام کرنے والے جیکب کوکسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے اس خدشے کے باعث استعفیٰ دیا کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیاں ہماری زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ان کے مطابق اے آئی کے شعبے سے وابستہ بعض افراد اس بات پر سنجیدگی سے یقین رکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت رواں دہائی کے اختتام تک پوری انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔جیکب کوکسن نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو معمولی سمجھنا خطرناک ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل کے اے آئی نظام انسانی صلاحیتوں سے آگے بڑھ سکتے ہیں، سائبر حملے کرنے، مختلف شعبوں میں غیر معمولی تیزی سے تبدیلی لانے اور حقیقی دنیا میں طاقت و وسائل تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں۔ان کی ایکس پر کی گئی پوسٹ کو اب تک 7 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔