نیو یارک( ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت اور روبوٹ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں زندگی میں نئی سہولتیں پیدا کی ہیں، وہیں انسانی ملازمتوں کے مستقبل سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اسی معاملے پر توجہ دلانے کے لیے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں تقریباً 30 روبوٹس نے منفرد احتجاج کیا اور مصنوعی ذہانت و روبوٹائزیشن کے لیے مزید سخت قوانین بنانے کا مطالبہ کیا۔مظاہرہ پولینڈ کی وزارتِ ڈیجیٹل امور کے باہر کیا گیا، جہاں مختلف نوعیت کے روبوٹس نے ہاتھوں میں جھنڈے اٹھا کر مارچ کیا۔ مقررہ نعرے اسپیکروں کے ذریعے نشر کیے جاتے رہے۔ احتجاج میں دو ٹانگوں پر چلنے والے انسان نما روبوٹس کے علاوہ چار ٹانگوں والے روبوٹ کتے بھی شریک ہوئے۔روبوٹس کے نعروں نے روزگار کے مستقبل پر سوال اٹھا دیےمظاہرے کے دوران ’ملازمتوں کا دفاع کرو‘، ’قواعد بنانے کا وقت ہے‘ اور ’انتظار مت کرو، ضوابط بناؤ‘ جیسے نعرے بلند کیے گئے۔ منفرد احتجاج نے ایک جانب روبوٹ ٹیکنالوجی کی موجودہ صلاحیتوں کو نمایاں کیا تو دوسری جانب یہ سوال بھی سامنے آیا کہ اگر روبوٹس انسانی نوعیت کے کام انجام دینے لگے تو مستقبل میں روزگار کی صورتحال کیا ہوگی۔اس احتجاج کا اہتمام ’ڈیموکریٹزم‘ نامی اقدام نے کیا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت اور روبوٹائزیشن کے لیبر مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے عوامی بحث کو فروغ دینا ہے۔