تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

وارسا میں روبوٹس کا احتجاج، ملازمتوں کے تحفظ کا مطالبہ

وارسا میں روبوٹس کا احتجاج، ملازمتوں کے تحفظ کا مطالبہ

 نیو یارک( ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت اور روبوٹ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں زندگی میں نئی سہولتیں پیدا کی ہیں، وہیں انسانی ملازمتوں کے مستقبل سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اسی معاملے پر توجہ دلانے کے لیے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں تقریباً 30 روبوٹس نے منفرد احتجاج کیا اور مصنوعی ذہانت و روبوٹائزیشن کے لیے مزید سخت قوانین بنانے کا مطالبہ کیا۔مظاہرہ پولینڈ کی وزارتِ ڈیجیٹل امور کے باہر کیا گیا، جہاں مختلف نوعیت کے روبوٹس نے ہاتھوں میں جھنڈے اٹھا کر مارچ کیا۔ مقررہ نعرے اسپیکروں کے ذریعے نشر کیے جاتے رہے۔ احتجاج میں دو ٹانگوں پر چلنے والے انسان نما روبوٹس کے علاوہ چار ٹانگوں والے روبوٹ کتے بھی شریک ہوئے۔روبوٹس کے نعروں نے روزگار کے مستقبل پر سوال اٹھا دیےمظاہرے کے دوران ’ملازمتوں کا دفاع کرو‘، ’قواعد بنانے کا وقت ہے‘ اور ’انتظار مت کرو، ضوابط بناؤ‘ جیسے نعرے بلند کیے گئے۔ منفرد احتجاج نے ایک جانب روبوٹ ٹیکنالوجی کی موجودہ صلاحیتوں کو نمایاں کیا تو دوسری جانب یہ سوال بھی سامنے آیا کہ اگر روبوٹس انسانی نوعیت کے کام انجام دینے لگے تو مستقبل میں روزگار کی صورتحال کیا ہوگی۔اس احتجاج کا اہتمام ’ڈیموکریٹزم‘ نامی اقدام نے کیا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت اور روبوٹائزیشن کے لیبر مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے عوامی بحث کو فروغ دینا ہے۔