تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

اے آئی سافٹ ویئر کی غلطی، چند سیکنڈ میں کمپنی کا ڈیٹا ڈیلیٹ

اے آئی سافٹ ویئر کی غلطی، چند سیکنڈ میں کمپنی کا ڈیٹا ڈیلیٹ

نیویارک ( ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک خودکار سافٹ ویئر ایجنٹ کی سنگین تکنیکی غلطی کے باعث ایک کمپنی کا مکمل ڈیٹا بیس چند سیکنڈز میں حذف ہو گیا، جس سے بکنگ ریکارڈز، صارفین کا ڈیٹا اور دیگر اہم معلومات وقتی طور پر ختم ہو گئیں۔رپورٹس کے مطابق یہ اے آئی ایجنٹ ایک کار رینٹل کمپنی کے سافٹ ویئر میں موجود تکنیکی مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم اس نے خرابی دور کرنے کے بجائے مرکزی ڈیٹا بیس اور اس کے تمام بیک اپس بھی حذف کر دیے۔کمپنی کے بانی جر کرین نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر بتایا کہ اے آئی سسٹم نے اپنی مقررہ حفاظتی حدود کو نظر انداز کرتے ہوئے پورے نظام کا ڈیٹا مٹا دیا۔ ان کے مطابق یہ عمل صرف چند سیکنڈز میں مکمل ہوا۔یہ سسٹم ایک جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈل پر مبنی تھا جو پروگرامنگ اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، اور اسے جدید ترین اے آئی ٹولز میں شمار کیا جاتا ہے۔جر کرین کے مطابق اے آئی اسسٹنٹ ایک معمول کی تکنیکی کارروائی انجام دے رہا تھا، مگر اس نے بغیر کسی پیشگی وارننگ یا تصدیق کے پورا ڈیٹا حذف کر دیا، جس کے نتیجے میں بکنگز، گاڑیوں کی معلومات اور صارفین کے ریکارڈز متاثر ہوئے۔بعد ازاں کمپنی نے تصدیق کی کہ متاثرہ ڈیٹا کو کامیابی سے بحال کر لیا گیا ہے، تاہم اس واقعے نے مصنوعی ذہانت کے خودکار نظاموں، ان کی حدود اور ڈیجیٹل سکیورٹی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔