تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

اے آئی سافٹ ویئر کی غلطی، چند سیکنڈ میں کمپنی کا ڈیٹا ڈیلیٹ

اے آئی سافٹ ویئر کی غلطی، چند سیکنڈ میں کمپنی کا ڈیٹا ڈیلیٹ

نیویارک ( ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک خودکار سافٹ ویئر ایجنٹ کی سنگین تکنیکی غلطی کے باعث ایک کمپنی کا مکمل ڈیٹا بیس چند سیکنڈز میں حذف ہو گیا، جس سے بکنگ ریکارڈز، صارفین کا ڈیٹا اور دیگر اہم معلومات وقتی طور پر ختم ہو گئیں۔رپورٹس کے مطابق یہ اے آئی ایجنٹ ایک کار رینٹل کمپنی کے سافٹ ویئر میں موجود تکنیکی مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم اس نے خرابی دور کرنے کے بجائے مرکزی ڈیٹا بیس اور اس کے تمام بیک اپس بھی حذف کر دیے۔کمپنی کے بانی جر کرین نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر بتایا کہ اے آئی سسٹم نے اپنی مقررہ حفاظتی حدود کو نظر انداز کرتے ہوئے پورے نظام کا ڈیٹا مٹا دیا۔ ان کے مطابق یہ عمل صرف چند سیکنڈز میں مکمل ہوا۔یہ سسٹم ایک جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈل پر مبنی تھا جو پروگرامنگ اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، اور اسے جدید ترین اے آئی ٹولز میں شمار کیا جاتا ہے۔جر کرین کے مطابق اے آئی اسسٹنٹ ایک معمول کی تکنیکی کارروائی انجام دے رہا تھا، مگر اس نے بغیر کسی پیشگی وارننگ یا تصدیق کے پورا ڈیٹا حذف کر دیا، جس کے نتیجے میں بکنگز، گاڑیوں کی معلومات اور صارفین کے ریکارڈز متاثر ہوئے۔بعد ازاں کمپنی نے تصدیق کی کہ متاثرہ ڈیٹا کو کامیابی سے بحال کر لیا گیا ہے، تاہم اس واقعے نے مصنوعی ذہانت کے خودکار نظاموں، ان کی حدود اور ڈیجیٹل سکیورٹی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔