بیجنگ (ویب ڈیسک) چین نے دنیا کا پہلا تجارتی زیرِ آب ڈیٹا سینٹر فعال کر دیا ہے جو سمندر کی تہہ میں قائم ہے اور زیادہ تر توانائی ہوا سے حاصل ہونے والی صاف توانائی پر چلتا ہے۔برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق شنگھائی کے قریب واقع یہ منصوبہ ایک ہائی ٹیک فری ٹریڈ زون کے پاس قائم کیا گیا ہے، جہاں معروف صنعتی تنصیبات بھی موجود ہیں۔ یہ ڈیٹا سینٹر سمندر کی سطح سے تقریباً دس میٹر نیچے نصب کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی اور سرکاری تعمیراتی ادارے کے اشتراک سے مکمل کیا گیا ہے۔ اس نے مئی میں باقاعدہ طور پر کام شروع کیا جبکہ اس کی مجموعی گنجائش چوبیس میگاواٹ ہے۔چینی حکام کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً بائیس کروڑ پچاس لاکھ ڈالر لاگت آئی اور اسے گزشتہ سال اکتوبر میں مکمل کیا گیا تھا۔ زیرِ آب ہونے کی وجہ سے یہ نظام روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں بائیس فیصد کم بجلی استعمال کرتا ہے، جبکہ اس کی توانائی کا بڑا حصہ قریبی سمندری ہوا سے چلنے والے ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔عام طور پر ڈیٹا سینٹرز میں سب سے بڑا مسئلہ سرورز کو ٹھنڈا رکھنا ہوتا ہے، کیونکہ یہ مسلسل کام کے دوران بہت زیادہ حرارت پیدا کرتے ہیں اور انہیں ٹھنڈا کرنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی استعمال کیا جاتا ہے۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ آب ہونے کی وجہ سے سمندر کا پانی قدرتی طور پر کولنگ کا کام کرتا ہے، جس کے باعث اس مرکز میں پانی کے استعمال میں روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں نوے فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔