تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

چین کا دنیا کا پہلا زیرِ آب تجارتی ڈیٹا سینٹر فعال

چین کا دنیا کا پہلا زیرِ آب تجارتی ڈیٹا سینٹر فعال

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین نے دنیا کا پہلا تجارتی زیرِ آب ڈیٹا سینٹر فعال کر دیا ہے جو سمندر کی تہہ میں قائم ہے اور زیادہ تر توانائی ہوا سے حاصل ہونے والی صاف توانائی پر چلتا ہے۔برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق شنگھائی کے قریب واقع یہ منصوبہ ایک ہائی ٹیک فری ٹریڈ زون کے پاس قائم کیا گیا ہے، جہاں معروف صنعتی تنصیبات بھی موجود ہیں۔ یہ ڈیٹا سینٹر سمندر کی سطح سے تقریباً دس میٹر نیچے نصب کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی اور سرکاری تعمیراتی ادارے کے اشتراک سے مکمل کیا گیا ہے۔ اس نے مئی میں باقاعدہ طور پر کام شروع کیا جبکہ اس کی مجموعی گنجائش چوبیس میگاواٹ ہے۔چینی حکام کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً بائیس کروڑ پچاس لاکھ ڈالر لاگت آئی اور اسے گزشتہ سال اکتوبر میں مکمل کیا گیا تھا۔ زیرِ آب ہونے کی وجہ سے یہ نظام روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں بائیس فیصد کم بجلی استعمال کرتا ہے، جبکہ اس کی توانائی کا بڑا حصہ قریبی سمندری ہوا سے چلنے والے ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔عام طور پر ڈیٹا سینٹرز میں سب سے بڑا مسئلہ سرورز کو ٹھنڈا رکھنا ہوتا ہے، کیونکہ یہ مسلسل کام کے دوران بہت زیادہ حرارت پیدا کرتے ہیں اور انہیں ٹھنڈا کرنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی استعمال کیا جاتا ہے۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ آب ہونے کی وجہ سے سمندر کا پانی قدرتی طور پر کولنگ کا کام کرتا ہے، جس کے باعث اس مرکز میں پانی کے استعمال میں روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں نوے فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔