تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

چینی سائنسدانوں کی بڑی پیش رفت، کوئلے سے ماحول دوست توانائی کی نئی ٹیکنالوجی متعارف

چینی سائنسدانوں کی بڑی پیش رفت، کوئلے سے ماحول دوست توانائی کی نئی ٹیکنالوجی متعارف

بیجنگ ( ویب ڈیسک) چینی سائنسدانوں نے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا ایک نیا اور جدید طریقہ متعارف کرایا ہے جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو انتہائی کم یا تقریباً ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔روایتی طور پر کوئلہ جلانے سے بجلی پیدا کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں فضائی آلودگی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں ماحول دوست اور کم آلودگی والی توانائی کے ذرائع پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔چینی ماہرین نے ایک نیا نظام تیار کیا ہے جس میں کوئلے کو جلانے کے بجائے باریک پیس کر مخصوص عمل سے گزارا جاتا ہے اور پھر اسے ایک خاص ایندھن خانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے دوسرے حصے میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے جہاں ایک خاص جھلی کے ذریعے توانائی پیدا کرنے کا عمل انجام پاتا ہے۔ اس عمل کے دوران پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سسٹم کے اندر ہی قابو میں رکھا جاتا ہے اور اسے مفید گیسوں میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ جدید طریقہ کار تقریباً چالیس فیصد تک مؤثر طریقے سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف توانائی کے بحران میں کمی لا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو بھی نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔