تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

چینی سائنسدانوں کی بڑی پیش رفت، کوئلے سے ماحول دوست توانائی کی نئی ٹیکنالوجی متعارف

چینی سائنسدانوں کی بڑی پیش رفت، کوئلے سے ماحول دوست توانائی کی نئی ٹیکنالوجی متعارف

بیجنگ ( ویب ڈیسک) چینی سائنسدانوں نے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا ایک نیا اور جدید طریقہ متعارف کرایا ہے جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو انتہائی کم یا تقریباً ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔روایتی طور پر کوئلہ جلانے سے بجلی پیدا کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں فضائی آلودگی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں ماحول دوست اور کم آلودگی والی توانائی کے ذرائع پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔چینی ماہرین نے ایک نیا نظام تیار کیا ہے جس میں کوئلے کو جلانے کے بجائے باریک پیس کر مخصوص عمل سے گزارا جاتا ہے اور پھر اسے ایک خاص ایندھن خانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے دوسرے حصے میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے جہاں ایک خاص جھلی کے ذریعے توانائی پیدا کرنے کا عمل انجام پاتا ہے۔ اس عمل کے دوران پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سسٹم کے اندر ہی قابو میں رکھا جاتا ہے اور اسے مفید گیسوں میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ جدید طریقہ کار تقریباً چالیس فیصد تک مؤثر طریقے سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف توانائی کے بحران میں کمی لا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو بھی نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔