تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

چینی سائنسدانوں کی بڑی پیش رفت، کوئلے سے ماحول دوست توانائی کی نئی ٹیکنالوجی متعارف

چینی سائنسدانوں کی بڑی پیش رفت، کوئلے سے ماحول دوست توانائی کی نئی ٹیکنالوجی متعارف

بیجنگ ( ویب ڈیسک) چینی سائنسدانوں نے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا ایک نیا اور جدید طریقہ متعارف کرایا ہے جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو انتہائی کم یا تقریباً ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔روایتی طور پر کوئلہ جلانے سے بجلی پیدا کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں فضائی آلودگی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں ماحول دوست اور کم آلودگی والی توانائی کے ذرائع پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔چینی ماہرین نے ایک نیا نظام تیار کیا ہے جس میں کوئلے کو جلانے کے بجائے باریک پیس کر مخصوص عمل سے گزارا جاتا ہے اور پھر اسے ایک خاص ایندھن خانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے دوسرے حصے میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے جہاں ایک خاص جھلی کے ذریعے توانائی پیدا کرنے کا عمل انجام پاتا ہے۔ اس عمل کے دوران پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سسٹم کے اندر ہی قابو میں رکھا جاتا ہے اور اسے مفید گیسوں میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ جدید طریقہ کار تقریباً چالیس فیصد تک مؤثر طریقے سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف توانائی کے بحران میں کمی لا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو بھی نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔