تازہ ترین
جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا حج 2027ء کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز، ابتدائی مرحلے میں پاسپورٹ لازمی نہیں گلگت بلتستان اسمبلی: 30 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں: علی امین گنڈاپور ٹرمپ کی نیٹو اتحادیوں پر تنقید، ایران معاملے پر اٹلی کو بھی ہدف یوکرین جانے والے ترک مال بردار جہاز پر روسی ڈرون حملہ، مصری شہری ہلاک اسماعیل قانی کی اسرائیل کو جنوبی لبنان سے فوری انخلا کی وارننگ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ، معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت نیویارک میں کنسرٹ کے دوران افسوسناک حادثہ، ایک شخص جاں بحق ایران امریکا مذاکرات کی افواہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، ڈالر معمولی سستا ڈیزل کی قیمت میں کمی، ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فیصد تک کمی کا اعلان ورلڈ کپ 2026 میں اون گولز کی غیر معمولی زیادتی، ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان بھارت اے کی ٹرائی سیریز فائنل میں فتح، سری لنکا اے کو 66 رنز سے شکست ورلڈ کپ 2026: جرمن ٹیم کو امریکا میں سخت سیکیورٹی چیک کا سامنا، ویڈیو وائرل ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے دی
پاکستان خبر

پریتی زنٹا کو ڈیپ فیک مواد کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت، ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

پریتی زنٹا کو ڈیپ فیک مواد کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت، ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

ممبئی( شو بز ڈیسک)بالی ووڈ اداکارہ اور کاروباری شخصیت پریتی زنٹا کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ڈیپ فیک مواد کے خلاف قانونی کارروائی میں بڑی پیش رفت حاصل ہو گئی ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس ابھے آہوجا نے اداکارہ کی درخواست پر انہیں عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد وہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف مقدمہ دائر کر سکیں گی۔ان پلیٹ فارمز میں گوگل، میٹا اور ایکس سمیت دیگر سوشل میڈیا نیٹ ورکس شامل ہیں، جہاں مبینہ طور پر اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز، تبدیل شدہ تصاویر، میمز اور چیٹ بوٹ شخصیات کے ذریعے ان کی شناخت کا استعمال کیا جا رہا تھا۔پریتی زنٹا کا مؤقف ہے کہ یہ مواد ان کی اجازت کے بغیر تیار کیا گیا ہے اور اس سے ان کے شخصیت کے حقوق، کاپی رائٹ اور اخلاقی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، جبکہ ان کی ساکھ اور عوامی تشخص کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ان کے وکیل روہن کدم نے عدالت کو بتایا کہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسا مواد تخلیق اور پھیلایا گیا جس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان کی شخصیت کو استعمال کیا گیا ہے۔عدالت میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ مواد نہ صرف قانونی حقوق متاثر کر رہا ہے بلکہ ان کی نجی زندگی اور شہرت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ آن لائن ہونے کے باعث یہ دنیا بھر میں فوری طور پر پھیل جاتا ہے۔