تازہ ترین
سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کرگئے شہباز شریف کی رانا مبشر اقبال سے خالہ زاد بھائی کے انتقال پر تعزیت عوام کو ریلیف نہ ملا تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے: حافظ نعیم الرحمٰن علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں 30 روز کی توسیع خلائی کچرے سے نمٹنے کے لیے برطانیہ کا روبوٹک مشن تیار کرنے کا منصوبہ یوٹیوب کا نیا فیچر، صارفین اپنی پسند کی ویڈیوز کی فیڈ بنا سکیں گے واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ کے ذریعے سائبر حملوں کا ہائی الرٹ جاری کلفٹن کے ساحل پر سمندری کچھوا مردہ ملا، پلاسٹک کچرے سے حیات کو خطرہ فیشن شو میں عفت عمر کے ساتھ دلچسپ واقعہ، ویڈیو وائرل ہونے پر ٹرولنگ دانیال ظفر کا صحت پر توجہ دینے کیلئے شوبز سے عارضی وقفے کا اعلان درفشاں سلیم اور ماورا حسین کے لہنگوں میں مماثلت، تصاویر وائرل ابتدائی فلموں کی ناکامی نے فلمی کیریئر متاثر کیا، دیا مرزا کا انکشاف ایل کلاسیکو: ریال میڈرڈ نے بارسلونا کی مسلسل فتوحات کا سلسلہ روک دیا سہ ملکی سیریز: حارث رؤف کے مشورے پر شاداب خان نے ریویو لیا صائم ایوب کی درخواست منظور، صاحبزادہ فرحان قومی اسکواڈ میں شامل دنیا کا ہر بولر چھکے کھاتا ہے، تنقید سے فرق نہیں پڑتا: حارث رؤف
پاکستان خبر

شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کی برسی، سروں کے سلطان کو دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس مکمل

شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کی برسی، سروں کے سلطان کو دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس مکمل

کراچی( شو بز ڈیسک) کراچی میں برصغیر کے عظیم غزل گائیک اور شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کو مداحوں سے بچھڑے 14 برس مکمل ہو گئے۔سروں کے سلطان کہلائے جانے والے استاد مہدی حسن نے 13 جون 2012 کو کراچی میں وفات پائی۔ وہ 18 جولائی 1927 کو بھارتی ریاست راجستھان کے گاؤں لْونا میں پیدا ہوئے اور ایک موسیقی سے جڑے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔انہوں نے ابتدائی موسیقی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کی۔ ان کے مطابق وہ کلاونت گھرانے کی سولہویں نسل سے تعلق رکھتے تھے۔1947 میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور چیچہ وطنی میں ابتدا میں سائیکل مرمت کا کام کرتے رہے۔ بعد ازاں وہ موٹر اور ٹریکٹر مکینک بھی رہے، تاہم موسیقی سے ان کی وابستگی کبھی کم نہ ہوئی۔ان کا باقاعدہ فنی سفر 1952 میں ریڈیو پاکستان ریڈیو پاکستان کراچی اسٹوڈیو سے شروع ہوا، جہاں سے انہوں نے اپنے منفرد اندازِ گائیکی کی بنیاد رکھی۔اپنے کیریئر میں انہوں نے ہزاروں گیت اور غزلیں گائیں۔ مختلف اعداد و شمار کے مطابق انہوں نے 25 ہزار سے زائد فلمی اور غیر فلمی گیتوں میں حصہ لیا، جبکہ سینکڑوں فلموں کے لیے بھی اپنی آواز کا جادو بکھیرا۔انہوں نے مجموعی طور پر 441 فلموں کے لیے گانے ریکارڈ کروائے، جن میں اردو اور پنجابی فلمیں شامل ہیں۔ ان کے متعدد گانے معروف اداکار محمد علی پر فلمائے گئے۔استاد مہدی حسن نے 1968 کی فلم ’’شریک حیات‘‘ میں اداکاری کے ذریعے پردۂ سیمیں پر بھی مختصر حاضری دی۔انہیں ان کی شاندار خدمات پر متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا جن میں نگار ایوارڈز، تمغۂ امتیاز، صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی، ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز شامل ہیں۔بین الاقوامی سطح پر انہیں 1979 میں کے ایل سہگل ایوارڈ اور 1983 میں نیپال کا گورکھا دکشینا باہو ایوارڈ بھی ملا، جبکہ 2001 میں پاکستان ٹیلی ویژن نے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا۔استاد مہدی حسن کی آواز آج بھی برصغیر کی موسیقی میں ایک لازوال حوالہ سمجھی جاتی ہے۔