کراچی( شو بز ڈیسک) کراچی میں برصغیر کے عظیم غزل گائیک اور شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کو مداحوں سے بچھڑے 14 برس مکمل ہو گئے۔سروں کے سلطان کہلائے جانے والے استاد مہدی حسن نے 13 جون 2012 کو کراچی میں وفات پائی۔ وہ 18 جولائی 1927 کو بھارتی ریاست راجستھان کے گاؤں لْونا میں پیدا ہوئے اور ایک موسیقی سے جڑے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔انہوں نے ابتدائی موسیقی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کی۔ ان کے مطابق وہ کلاونت گھرانے کی سولہویں نسل سے تعلق رکھتے تھے۔1947 میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور چیچہ وطنی میں ابتدا میں سائیکل مرمت کا کام کرتے رہے۔ بعد ازاں وہ موٹر اور ٹریکٹر مکینک بھی رہے، تاہم موسیقی سے ان کی وابستگی کبھی کم نہ ہوئی۔ان کا باقاعدہ فنی سفر 1952 میں ریڈیو پاکستان ریڈیو پاکستان کراچی اسٹوڈیو سے شروع ہوا، جہاں سے انہوں نے اپنے منفرد اندازِ گائیکی کی بنیاد رکھی۔اپنے کیریئر میں انہوں نے ہزاروں گیت اور غزلیں گائیں۔ مختلف اعداد و شمار کے مطابق انہوں نے 25 ہزار سے زائد فلمی اور غیر فلمی گیتوں میں حصہ لیا، جبکہ سینکڑوں فلموں کے لیے بھی اپنی آواز کا جادو بکھیرا۔انہوں نے مجموعی طور پر 441 فلموں کے لیے گانے ریکارڈ کروائے، جن میں اردو اور پنجابی فلمیں شامل ہیں۔ ان کے متعدد گانے معروف اداکار محمد علی پر فلمائے گئے۔استاد مہدی حسن نے 1968 کی فلم ’’شریک حیات‘‘ میں اداکاری کے ذریعے پردۂ سیمیں پر بھی مختصر حاضری دی۔انہیں ان کی شاندار خدمات پر متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا جن میں نگار ایوارڈز، تمغۂ امتیاز، صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی، ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز شامل ہیں۔بین الاقوامی سطح پر انہیں 1979 میں کے ایل سہگل ایوارڈ اور 1983 میں نیپال کا گورکھا دکشینا باہو ایوارڈ بھی ملا، جبکہ 2001 میں پاکستان ٹیلی ویژن نے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا۔استاد مہدی حسن کی آواز آج بھی برصغیر کی موسیقی میں ایک لازوال حوالہ سمجھی جاتی ہے۔
شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کی برسی، سروں کے سلطان کو دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس مکمل
واپس خبروں پر
Category:
تفریح