تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

یورپی یونین کا گوگل پر ایک ارب ڈالر کے قریب جرمانہ، مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی قرار

یورپی یونین کا گوگل پر ایک ارب ڈالر کے قریب جرمانہ، مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی قرار

برسلز( ویب ڈیسک) یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری اور مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر گوگل پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر) کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔یورپی کمیشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق گوگل نے اپنے سرچ انجن کی بالادست حیثیت کا غیرمنصفانہ فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر آن لائن سروسز کو نمایاں رکھا، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو سرچ نتائج میں نسبتاً نیچے دکھایا، جسے مسابقت کے اصولوں کے خلاف قرار دیا گیا۔کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یورپی یونین کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی خدمات کے ساتھ شفاف، منصفانہ اور غیر امتیازی رویہ اختیار کریں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ گوگل نے مبینہ طور پر ایپ ڈویلپرز کو گوگل پلے اسٹور پر صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے بھی روکا، جس سے کمپنی کی فیس برقرار رہی۔ یورپی کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے منافی ہے۔کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عمل درآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری ادارے متاثر ہوں گے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ وہ فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل پر بھاری جرمانہ عائد کیا ہو۔ اس سے قبل 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم سے متعلق مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں اجارہ داری کے معاملے پر بھی 2.8 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔