تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی ’لُوچے‘ شدید تنقید کی زد میں

فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی ’لُوچے‘ شدید تنقید کی زد میں

نیو یارک( ویب ڈیسک)عالمی شہرت یافتہ پرتعیش گاڑیاں بنانے والی کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ’لُوچے‘ نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’’روشنی‘‘ ہے۔ تاہم گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی اس پانچ نشستوں والی الیکٹرک گاڑی کو غیر معمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر رکھی گئی ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے بنتی ہے۔گاڑی کی شاندار تقریبِ رونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات کے علاوہ ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور منفی مارکیٹ ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے حوالے سے ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی اہمیت رکھتا ہے، تاہم کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو مطمئن کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہو گی۔