کیلیفورنیا ( ویب ڈیسک) عالمی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی کمپنی ویزا کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں صارفین خریداری کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد لے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 82 فیصد پاکستانی صارفین آن لائن شاپنگ کے دوران مختلف کاموں کے لیے مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کر رہے ہیں، جن میں قیمتوں کا موازنہ، مصنوعات کے جائزے اور تحائف کے انتخاب جیسے امور شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 93 فیصد صارفین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے آن لائن خریداری کے عمل کو زیادہ تیز اور آسان بنا دیا ہے، تاہم خریداری مکمل کرنے کے مرحلے پر اعتماد کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ صرف 42 فیصد صارفین مصنوعی ذہانت کے ذریعے ادائیگی یا چیک آؤٹ کے عمل کو مکمل کرنے پر آمادہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق 82 فیصد پاکستانی صارفین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے خریداری کر چکے ہیں، تاہم مالی فراڈ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے مطابق گزشتہ ایک سال میں 55 فیصد صارفین کسی نہ کسی قسم کے فراڈ کا شکار ہوئے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 87 فیصد افراد کا خیال ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت فراڈ کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گی، جبکہ 65 فیصد صارفین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کو بھی آسان بنا رہی ہے۔بچوں کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جس میں بڑی تعداد نے کہا کہ بچے ڈیجیٹل فراڈ کی شناخت میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ویزا کی ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور سوشل کامرس صارفین کے خریداری کے انداز کو بدل رہے ہیں، تاہم ڈیجیٹل تجارت کی ترقی کے لیے اعتماد، تحفظ اور صارف کے کنٹرول کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
پاکستان میں آن لائن خریداری میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال، ویزا رپورٹ میں انکشاف
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی