تازہ ترین
پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ثاقب چدھڑ اور اہلیہ کی ضمانت میں توسیع
پاکستان خبر

راکٹ لانچ سے پیدا ہونے والی آلودگی پر تشویش ناک تحقیق

راکٹ لانچ سے پیدا ہونے والی آلودگی پر تشویش ناک تحقیق

لندن، (ویب ڈیسک)ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ راکٹ لانچ کے دوران خارج ہونے والے بلیک کاربن کے ذرات فضا کی بالائی تہوں میں زمین پر پیدا ہونے والی سیاہ راکھ کے مقابلے میں کہیں زیادہ دیر تک موجود رہتے ہیں۔برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن کی قیادت میں کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق سینکڑوں یا ہزاروں سیٹلائٹس پر مشتمل میگا کانسٹیلیشنز کو خلا میں بھیجنے کے دوران پیدا ہونے والی یہ آلودگی زمین کے موسمیاتی نظام پر ایسے اثرات مرتب کر سکتی ہے جنہیں ابھی مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔تحقیق کے مرکزی مصنف اور فضائی کیمیا کے ماہر کونر بارکر کا کہنا ہے کہ راکٹ لانچ آلودگی کا ایک منفرد ذریعہ ہیں، کیونکہ یہ نقصان دہ کیمیائی مادّوں کو براہِ راست فضا کی بالائی تہوں میں پہنچا دیتے ہیں، جس سے زمین کے نسبتاً صاف ماحول میں بھی آلودگی شامل ہو جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2019 کے بعد سے خلا میں بھیجے جانے والے راکٹوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق رواں سال لانچز کی تعداد گزشتہ برسوں کے ریکارڈ کو بھی عبور کر سکتی ہے۔اس اضافے کی بڑی وجہ مختلف خلائی منصوبے اور سیٹلائٹ مشنز ہیں، جن میں بعض نجی کمپنیوں کے راکٹ بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین اور دیگر ممالک بھی اپنے خلائی پروگراموں کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں، جس کے باعث راکٹ لانچز کی مجموعی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔