تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

راکٹ لانچ سے پیدا ہونے والی آلودگی پر تشویش ناک تحقیق

راکٹ لانچ سے پیدا ہونے والی آلودگی پر تشویش ناک تحقیق

لندن، (ویب ڈیسک)ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ راکٹ لانچ کے دوران خارج ہونے والے بلیک کاربن کے ذرات فضا کی بالائی تہوں میں زمین پر پیدا ہونے والی سیاہ راکھ کے مقابلے میں کہیں زیادہ دیر تک موجود رہتے ہیں۔برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن کی قیادت میں کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق سینکڑوں یا ہزاروں سیٹلائٹس پر مشتمل میگا کانسٹیلیشنز کو خلا میں بھیجنے کے دوران پیدا ہونے والی یہ آلودگی زمین کے موسمیاتی نظام پر ایسے اثرات مرتب کر سکتی ہے جنہیں ابھی مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔تحقیق کے مرکزی مصنف اور فضائی کیمیا کے ماہر کونر بارکر کا کہنا ہے کہ راکٹ لانچ آلودگی کا ایک منفرد ذریعہ ہیں، کیونکہ یہ نقصان دہ کیمیائی مادّوں کو براہِ راست فضا کی بالائی تہوں میں پہنچا دیتے ہیں، جس سے زمین کے نسبتاً صاف ماحول میں بھی آلودگی شامل ہو جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2019 کے بعد سے خلا میں بھیجے جانے والے راکٹوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق رواں سال لانچز کی تعداد گزشتہ برسوں کے ریکارڈ کو بھی عبور کر سکتی ہے۔اس اضافے کی بڑی وجہ مختلف خلائی منصوبے اور سیٹلائٹ مشنز ہیں، جن میں بعض نجی کمپنیوں کے راکٹ بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین اور دیگر ممالک بھی اپنے خلائی پروگراموں کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں، جس کے باعث راکٹ لانچز کی مجموعی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔