لندن، (ویب ڈیسک)ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ راکٹ لانچ کے دوران خارج ہونے والے بلیک کاربن کے ذرات فضا کی بالائی تہوں میں زمین پر پیدا ہونے والی سیاہ راکھ کے مقابلے میں کہیں زیادہ دیر تک موجود رہتے ہیں۔برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن کی قیادت میں کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق سینکڑوں یا ہزاروں سیٹلائٹس پر مشتمل میگا کانسٹیلیشنز کو خلا میں بھیجنے کے دوران پیدا ہونے والی یہ آلودگی زمین کے موسمیاتی نظام پر ایسے اثرات مرتب کر سکتی ہے جنہیں ابھی مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔تحقیق کے مرکزی مصنف اور فضائی کیمیا کے ماہر کونر بارکر کا کہنا ہے کہ راکٹ لانچ آلودگی کا ایک منفرد ذریعہ ہیں، کیونکہ یہ نقصان دہ کیمیائی مادّوں کو براہِ راست فضا کی بالائی تہوں میں پہنچا دیتے ہیں، جس سے زمین کے نسبتاً صاف ماحول میں بھی آلودگی شامل ہو جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2019 کے بعد سے خلا میں بھیجے جانے والے راکٹوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق رواں سال لانچز کی تعداد گزشتہ برسوں کے ریکارڈ کو بھی عبور کر سکتی ہے۔اس اضافے کی بڑی وجہ مختلف خلائی منصوبے اور سیٹلائٹ مشنز ہیں، جن میں بعض نجی کمپنیوں کے راکٹ بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین اور دیگر ممالک بھی اپنے خلائی پروگراموں کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں، جس کے باعث راکٹ لانچز کی مجموعی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔