تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

بھارت میں اے آئی کے غلط استعمال سے خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی میں اضافہ

بھارت میں اے آئی کے غلط استعمال سے خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی میں اضافہ

نئی دہلی( ویب ڈیسک) بھارت میں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے ذریعے مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں جعلی ویڈیوز، تصاویر اور من گھڑت آوازوں کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیل کر کے سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے، جبکہ بعض معاملات میں جعلی آوازوں کا استعمال بھی سامنے آیا ہے۔متاثرہ خواتین کی جانب سے شکایات درج کرائی گئی ہیں اور متعلقہ اداروں سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے جعلی ڈیجیٹل مواد کو بڑی تعداد میں ناظرین مل رہے ہیں، جس سے آن لائن ہراسانی کے رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔تحقیقی مطالعات میں اس رجحان کو ایک منظم آن لائن مہم قرار دیا گیا ہے جو نفرت انگیز رویوں کو فروغ دے رہی ہے اور معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق سائبر کرائم ادارے اس قسم کے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی روک تھام میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ماہرین نے حکومتوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ خواتین کو آن لائن ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔