نئی دہلی( ویب ڈیسک) بھارت میں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے ذریعے مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں جعلی ویڈیوز، تصاویر اور من گھڑت آوازوں کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیل کر کے سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے، جبکہ بعض معاملات میں جعلی آوازوں کا استعمال بھی سامنے آیا ہے۔متاثرہ خواتین کی جانب سے شکایات درج کرائی گئی ہیں اور متعلقہ اداروں سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے جعلی ڈیجیٹل مواد کو بڑی تعداد میں ناظرین مل رہے ہیں، جس سے آن لائن ہراسانی کے رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔تحقیقی مطالعات میں اس رجحان کو ایک منظم آن لائن مہم قرار دیا گیا ہے جو نفرت انگیز رویوں کو فروغ دے رہی ہے اور معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق سائبر کرائم ادارے اس قسم کے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی روک تھام میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ماہرین نے حکومتوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ خواتین کو آن لائن ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
بھارت میں اے آئی کے غلط استعمال سے خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی میں اضافہ
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی