لاہور( ویب ڈیسک) انسٹاگرام نے ایسے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی سخت کرنے کا اعلان کیا ہے جو بظاہر حقیقی افراد کے پروفائلز دکھائی دیتے ہیں، تاہم حقیقت میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کردہ فرضی کرداروں پر مبنی ہوتے ہیں۔صارفین کی جانب سے شکایات موصول ہونے کے بعد انسٹاگرام نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فرضی شخصیات کے اکاؤنٹس سے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے اکاؤنٹس مکمل طور پر بند نہیں کیے جائیں گے، تاہم ان کی شناخت واضح کرنے کیلئے لیبل میں تبدیلی کی جائے گی۔انسٹاگرام کے مطابق موجودہ ’اے آئی کریئٹر‘ لیبل کو تبدیل کرکے ’اے آئی جنریٹڈ پروفائل‘ کردیا جائے گا، تاکہ صارفین باآسانی جان سکیں کہ متعلقہ پروفائل کسی حقیقی شخص کے بجائے مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ کردار پر مبنی ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ جن فرضی مصنوعی ذہانت کے پروفائلز پر مناسب لیبل موجود نہیں ہوگا، ان کی رسائی بھی محدود کردی جائے گی، جس کے نتیجے میں ایسے اکاؤنٹس کی پوسٹس کم صارفین تک پہنچ سکیں گی۔انسٹاگرام کے مطابق یہ تبدیلی صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی آرا کے بعد کی گئی ہے۔ پلیٹ فارم نے رواں سال کے آغاز میں ’اے آئی کریئٹر‘ لیبل کی آزمائش شروع کی تھی، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فرضی کرداروں اور پروفائلز کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نمٹنا تھا۔نئی پالیسی کے ذریعے انسٹاگرام صارفین کو یہ سمجھنے میں مدد دینا چاہتا ہے کہ ان کے سامنے موجود پروفائل کسی حقیقی فرد کا ہے یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فرضی شناخت پر مبنی ہے۔
انسٹاگرام کا مصنوعی ذہانت سے بنے فرضی اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی سخت کرنے کا اعلان
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی