تازہ ترین
میکسیکو میں مذہبی میلے کے دوران دھماکا، 10 افراد ہلاک نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک اسرائیل میں کائی کا پھیلاؤ، دو پانی صاف کرنے والے پلانٹس بند بغداد بک فیئر میں 28 ممالک کی ریکارڈ شرکت عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی چیری کیو متعارف، ایک چارج پر 400 کلومیٹر سفر ممکن ایس ای سی پی نے بزنس ریڈی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات منظور کرلیے کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی سرفراز احمد کو ہٹانے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی پی سی بی نے کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق انکوائری شروع کردی فاطمہ نسیم نے بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر 10 عالمی ریکارڈ بنالیے جنوبی افریقا نے زمبابوے کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی شاہ رخ خان انڈر ورلڈ کے سامنے ڈٹ گئے، سنجے گپتا کا انکشاف نارتھ ویسٹ کا پہلا ہیڈلائن کنسرٹ، کم اور کانیے پھر اکٹھے کیانو ریوز کی شادی نہ کرنے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی ایشا رکھی نے بادشاہ سے تعلق کو زندگی کا بدترین دور قرار دے دیا
پاکستان خبر

پنجاب اسمبلی، 16 سال سے کم بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی، 16 سال سے کم بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی قرارداد منظور

لاہور( ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔حکومتی رکن اسمبلی سارہ احمد نے قرارداد ایوان میں پیش کی، جس میں کہا گیا کہ بچوں کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی نشوونما کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔قرارداد کے متن کے مطابق سوشل میڈیا کے بے قابو استعمال کے باعث بچے سائبر بُلنگ، آن لائن جنسی استحصال، نامناسب مواد، ذہنی دباؤ اور دیگر سنگین خطرات کا سامنا کررہے ہیں۔پنجاب اسمبلی نے وفاقی حکومت سے سفارش کی کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مؤثر قانونی پابندی عائد کی جائے۔قرارداد میں کہا گیا کہ آسٹریلیا، فرانس، چین اور امریکا کی مختلف ریاستوں سمیت دنیا کے متعدد ممالک کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق قوانین اور عمر کی پابندیاں نافذ کرچکے ہیں۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ عالمی رجحانات کے پیش نظر پاکستان میں بھی کم عمر بچوں کے محفوظ مستقبل کیلئے مؤثر قانون سازی ضروری ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مؤثر عمر کی تصدیق کا نظام نافذ کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ایوان نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں کے تحفظ کے طے شدہ معیارات پر عملدرآمد، نقصان دہ مواد کی فوری روک تھام اور نابالغوں کیلئے محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا۔قرارداد میں وفاقی اور صوبائی متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا کہ والدین، اساتذہ اور بچوں کیلئے ڈیجیٹل آگاہی اور محفوظ انٹرنیٹ کے استعمال سے متعلق مہمات چلائی جائیں، جبکہ بچوں کے آن لائن تحفظ کیلئے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مربوط نظام اور مؤثر قانون سازی یقینی بنائی جائے۔