آزاد کشمیر( ویب ڈیسک)مواصلاتی ادارے کی دستاویز کے مطابق گزشتہ سال ہونے والی شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مواصلاتی انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچا، جس کی مکمل بحالی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں تباہ ہونے والے مواصلاتی نظام کو وقتی اور عارضی انتظامات کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جس کے باعث ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔متعدد علاقوں میں نظام کم استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جس سے نیٹ ورک پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور سروسز میں بار بار خلل پیدا ہو رہا ہے۔سیلابی صورتحال کے باعث زیرِ زمین اور فضائی مواصلاتی کیبلز، کھمبے اور دیگر تنصیبات کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔دستاویز کے مطابق کئی کلومیٹر طویل مواصلاتی لائنیں متاثر ہوئیں، جبکہ سیکڑوں کھمبے اور دیگر آلات بھی تباہ ہوئے۔مزید بتایا گیا ہے کہ متعدد مواصلاتی مراکز اور شمسی توانائی کے نظام بھی سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر ناکارہ ہو گئے، جس سے نظام کی مجموعی کارکردگی متاثر ہوئی۔متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر عارضی بحالی تو کر دی گئی ہے، تاہم یہ اقدامات مستقل حل نہیں اور کسی بھی وقت دوبارہ خرابی کا باعث بن سکتے ہیں۔ادارے نے متاثرہ انفراسٹرکچر کی مکمل بحالی اور نقصان کے ازالے کے لیے حکومت سے اضافی فنڈز کی درخواست کی ہے تاکہ مواصلاتی نظام کو دوبارہ مؤثر بنایا جا سکے۔